صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے کی فرضیت کی ابتداء میں روزے دار کے رات کو سو جانے کے بعد کھانا پینا اور جماع کرنا ممنوع تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کرکے انپے مؤمن بندوں پر فضل و کرم، ان سے درگزر اور تخفیف و آسانی کرتے ہوئے یہ تمام کام طلوع فجر تک جائز قرار دے دیئے
حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا، فَحَضَرَ الإِفْطَارَ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ، وَلا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لا. وَلَكِنْ أَطْلُبُ، فَطَلَبَتْ لَهُ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، وَجَاءَتِ امْرَأَتُهُ، قَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ. فَأَصْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187 فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا. فَقَالَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187"
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں کوئی شخص جب روزے دار ہوتا پھر افطاری کا وقت آجاتا اور وہ افطاری سے پہلے سو جاتا تو وہ اس رات اور اگلے دن شام تک کچھ نہ کھاتا اور سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ روزے دار تھے پھر جب افطاری کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور پو چھا کہ کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ نہیں، لیکن میں تلاش کرکے لاتی ہوں تو وہ اُن کے لئے کھانا لینے چلی گئیں اور سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سارا دن کام کرتے رہے تھے، لہٰذا اُنہیں نیند آگئی۔ اُن کی زوجہ محترمہ (کھانا لیکر) آئی۔ (اُنہیں سو یا ہوا دیکھ کر) کہنے لگیں کہ افسوس تم محروم ہوگئے۔ پھر اسی حالت میں اُنہوں نے صبح کی۔ پھر جب دوپہر کا وقت ہوا تو وہ بیہوش ہوگئے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی «أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ» [ سورة البقرة: 187 ] ”تمہارے لئے روزوں کی رات میں بیویوں سے ہمبستری کرنا حلال کردیا گیا ہے۔“ اس سے صحابہ کو بہت زیادہ خوش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مزید قرآن نازل فرمایا «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» [ سورة البقرة: 187 ] ”کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1915، 4508، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1904، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3460، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2167، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2314، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2968، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1735، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7995، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18910، 18911»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1904 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1904
فوائد:
روزوں کی فرضیت کے آغاز میں رات کے وقت روزہ داروں پر دو چیزوں کی پابندی تھی۔
➊ رات کے وقت روزہ دار کا بیوی سے مباشرت کرنا حرام تھا۔
اس کی دلیل آئندہ حدیث ہے:
❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«لَمَّا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ كَانُوا لَا يَقْرَبُونَ النِّسَاءَ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَكَانَ رِجَالٌ يَخُونُونَ أَنْفُسَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ﴾ »
”جب رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پورا رمضان بیویوں کے قریب نہ جاتے تھے اور (اس دوران) کچھ لوگ اپنی جانوں سے خیانت کرتے رہے (یعنی حکم عدولی کی) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ﴾ ”ہم نے جان لیا ہے کہ تم اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔““ [سورة البقرة: 187] [صحیح البخاري: 4508]
پھر یہ پابندی ختم کر دی گئی اور بیوی سے مباشرت کی اجازت دے دی گئی کہ ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ﴾ ”تمہارے لیے روزے کی رات اپنی بیویوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے۔“ [سورة البقرة: 187]
➋ روزوں کی فرضیت کی ابتداء میں سحری کی رخصت نہ تھی، بلکہ مغرب کے بعد سونے سے قبل روزہ افطار کرنے اور نیند سے قبل تک کھانے کی اجازت تھی۔
سونے کے بعد اگلی رات تک کھانا ممنوع تھا، پھر اس مذکورہ واقعہ کے بعد طلوع فجر تک کھانے کی رخصت دی گئی اور سحری کرنے کی ترغیب و فضیلت بیان کی گئی۔
لہٰذا سحری کرنا مستحب فعل قرار دیا گیا۔
روزوں کی فرضیت کے آغاز میں رات کے وقت روزہ داروں پر دو چیزوں کی پابندی تھی۔
➊ رات کے وقت روزہ دار کا بیوی سے مباشرت کرنا حرام تھا۔
اس کی دلیل آئندہ حدیث ہے:
❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«لَمَّا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ كَانُوا لَا يَقْرَبُونَ النِّسَاءَ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَكَانَ رِجَالٌ يَخُونُونَ أَنْفُسَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ﴾ »
”جب رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پورا رمضان بیویوں کے قریب نہ جاتے تھے اور (اس دوران) کچھ لوگ اپنی جانوں سے خیانت کرتے رہے (یعنی حکم عدولی کی) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ﴾ ”ہم نے جان لیا ہے کہ تم اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔““ [سورة البقرة: 187] [صحیح البخاري: 4508]
پھر یہ پابندی ختم کر دی گئی اور بیوی سے مباشرت کی اجازت دے دی گئی کہ ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ﴾ ”تمہارے لیے روزے کی رات اپنی بیویوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے۔“ [سورة البقرة: 187]
➋ روزوں کی فرضیت کی ابتداء میں سحری کی رخصت نہ تھی، بلکہ مغرب کے بعد سونے سے قبل روزہ افطار کرنے اور نیند سے قبل تک کھانے کی اجازت تھی۔
سونے کے بعد اگلی رات تک کھانا ممنوع تھا، پھر اس مذکورہ واقعہ کے بعد طلوع فجر تک کھانے کی رخصت دی گئی اور سحری کرنے کی ترغیب و فضیلت بیان کی گئی۔
لہٰذا سحری کرنا مستحب فعل قرار دیا گیا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1904]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1904 in Urdu
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري