صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب آسمان پر بادل چھا جائیں تو رمضان المبارک کا اندازہ کرنے کے لئے شعبان کے تیس دن شمار کریں گے پھر روزے رکھے جائیں گے
حدیث نمبر: 1909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلاثِينَ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَيَعْقِدُ فِي الثَّالِثَةِ،" فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلاثِينَ" . وَفِي خَبَرِ ابْنِ فُضَيْلٍ: ثُمَّ طَبَّقَ بِيَدِهِ، وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً مِنْ أَصَابِعِهِ،" فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَثَلاثِينَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ایسے ایسے اور ایسے تیس دن کا ہوتا ہے۔ اور مہینہ اس طرح اور اس طرح بھی ہوتا ہے۔ اور تیسری (اپنے انگوٹھے کو) بند کر لیتے (یعنی مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے) اور اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (شعبان کے) تیس دن مکمّل کرلو۔“ جناب ابن فضیل کی روایت میں ہے کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھولا اور ایک اُنگلی کو بند رکھا (اُنتیس کا اشارہ کیا) پھر اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو (شعبان کے) تیس دن پورے کرو ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1909]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1900، 1906، 1907، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1080، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1001، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1905، 1906، 1907، 1909، 1913، 1917، 1918، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3441، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1544، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2119، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2319، 2320، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1655، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8019، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2167، 2168، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4574»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1909 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1909
فوائد:
➊ اسلامی مہینے انتیس یا تیس دن کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی مہینے کے تعین کے لیے دو چیزوں کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ 1 سابقہ مہینے کے انتیس دن مکمل ہونے کے بعد چاند نظر آجائے۔ 2 گزشتہ ماہ کے تیس دن مکمل ہو جائیں۔ ان دو صورتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بھی اسلامی مہینے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
➋ رمضان المبارک کے مہینے کے ثبوت کے لیے لازم ہے، یا تو شعبان کی انتیس تاریخ کے بعد چاند نظر آجائے۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کے تیس دن مکمل ہونے پر رمضان المبارک کا آغاز ہوگا۔ محض شک کی بنا پر رمضان کا روزہ رکھنا حرام ہے۔
➌ بعض اسلامی مہینے انتیس اور بعض تیس دن کے ہیں اور اگر انتیس تاریخ کے بعد چاند نظر نہ آئے تو بہر صورت اس مہینے کی تعداد تیس دن پوری کی جائے گی۔ کسی بھی صورت میں اسے انتیس دن تک محدود کرنا جائز نہیں۔
➊ اسلامی مہینے انتیس یا تیس دن کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی مہینے کے تعین کے لیے دو چیزوں کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ 1 سابقہ مہینے کے انتیس دن مکمل ہونے کے بعد چاند نظر آجائے۔ 2 گزشتہ ماہ کے تیس دن مکمل ہو جائیں۔ ان دو صورتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بھی اسلامی مہینے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
➋ رمضان المبارک کے مہینے کے ثبوت کے لیے لازم ہے، یا تو شعبان کی انتیس تاریخ کے بعد چاند نظر آجائے۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کے تیس دن مکمل ہونے پر رمضان المبارک کا آغاز ہوگا۔ محض شک کی بنا پر رمضان کا روزہ رکھنا حرام ہے۔
➌ بعض اسلامی مہینے انتیس اور بعض تیس دن کے ہیں اور اگر انتیس تاریخ کے بعد چاند نظر نہ آئے تو بہر صورت اس مہینے کی تعداد تیس دن پوری کی جائے گی۔ کسی بھی صورت میں اسے انتیس دن تک محدود کرنا جائز نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1909]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1909 in Urdu
محمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي