صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جن کا دعویٰ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنے کا حُکم دیا ہے، شعبان کے تیس دن مکمّل کرنے کا حُکم نہیں دیا
حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ :" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتحفَّظُ مِنْ هِلالِ شَعْبَانَ مَا لا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ، عَدَّ ثَلاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ صَامَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر شعبان کے چاند کا خیال رکھتے تھے اس قدر دوسرے کسی مہینے کا خیال نہیں رکھتے تھے ـ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے۔ اور اگر آپ پر بادل چھا جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (شعبان کے) تیس دن شمار کرتے پھر روزہ رکھتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 414، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1910، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3444، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1545، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2325، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8036، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2149، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25800»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1910 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1910
فوائد:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان کی گنتی کا خاص لحاظ اس لیے رکھتے تھے کہ رمضان کا حقیقی تعین ہو اور رمضان کا کوئی روزہ ناقص نہ ہو۔
بلکہ شعبان کے صحیح تعین (انتیس یا تیس دن) کے بعد رمضان کا آغاز کر دیا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل اسلام کو بھی شعبان کی گنتی کا لحاظ رکھنے کی خاص تاکید فرمائی ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ»
”رمضان کے (روزوں کے) سبب ہلالِ شعبان کو شمار کرو (یعنی شعبان کے دن شمار کرو تاکہ رمضان کا کوئی روزہ فوت نہ ہو)۔“ [سنن الترمذي: 687، السلسلة الصحيحة: 565]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ خوب محنت سے چاند کا مطالعہ کرو اور اس کی منازل دیکھو۔ تاکہ تم پوری بصیرت سے مبنی بر حقیقت رمضان کا ادراک کر سکو کہ تم سے رمضان کا کوئی دن چھوٹ نہ جائے۔ [تحفة الأحوذي: 3/249]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان کی گنتی کا خاص لحاظ اس لیے رکھتے تھے کہ رمضان کا حقیقی تعین ہو اور رمضان کا کوئی روزہ ناقص نہ ہو۔
بلکہ شعبان کے صحیح تعین (انتیس یا تیس دن) کے بعد رمضان کا آغاز کر دیا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل اسلام کو بھی شعبان کی گنتی کا لحاظ رکھنے کی خاص تاکید فرمائی ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ»
”رمضان کے (روزوں کے) سبب ہلالِ شعبان کو شمار کرو (یعنی شعبان کے دن شمار کرو تاکہ رمضان کا کوئی روزہ فوت نہ ہو)۔“ [سنن الترمذي: 687، السلسلة الصحيحة: 565]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ خوب محنت سے چاند کا مطالعہ کرو اور اس کی منازل دیکھو۔ تاکہ تم پوری بصیرت سے مبنی بر حقیقت رمضان کا ادراک کر سکو کہ تم سے رمضان کا کوئی دن چھوٹ نہ جائے۔ [تحفة الأحوذي: 3/249]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1910]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1910 in Urdu
عبد الله بن عفيف النصري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق