صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رمضان المبارک کے اُنتیس روزوں کی تعداد روزوں کی نسبت زیادہ تھی۔ ان جاہل اور بے عقل لوگوں کے خیال کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ ہر رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا أَحْمَدُ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " لَمَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلاثِينَ" . وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ: عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنِ ابْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ يُسَمِّهِ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُنتیس روزے تیس روزوں کی نسبت زیادہ مرتبہ رکھے ہیں ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1922]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1922، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2322، والترمذي فى (جامعه) برقم: 689، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8298، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2350، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3852»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1922 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1922
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں رمضان کے مہینے کے اعتبار سے تیس دن کی نسبت انتیس دن زیادہ رہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں رمضان کے مہینے کے اعتبار سے تیس دن کی نسبت انتیس دن زیادہ رہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1922]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1922 in Urdu
عمرو بن الحارث الخزاعي ← عبد الله بن مسعود