صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سحری کھانے میں تاخیر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1942
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلالٍ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: " كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي , ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَةٌ بِي أَنْ أُدْرِكَ صَلاةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کھاتا پھر میں نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کرنے کے لئے جلدی کرتا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1942]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 577، 1920، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1942، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2177، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7533، والطبراني فى(الكبير) برقم: 5871، 5903»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى | صحابي |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1942 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1942
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ سحری کو مؤخر کرنا اور طلوع فجر کے قریب سحری کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ سحری میں زیادہ تعجیل کہ روزہ دار طلوع فجر سے دو اڑھائی گھنٹے پہلے سحری سے فارغ ہو جائیں، پسندیدہ نہیں ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ سحری کو مؤخر کرنا اور طلوع فجر کے قریب سحری کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ سحری میں زیادہ تعجیل کہ روزہ دار طلوع فجر سے دو اڑھائی گھنٹے پہلے سحری سے فارغ ہو جائیں، پسندیدہ نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1942]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1942 in Urdu