صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے کی حالت میں گالی دینے اور لڑائی کرنے کی ممانعت ہے
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلا يَرْفُثْ، فَإِنْ شَاتَمَهُ، أَوْ سَابَّهُ، وَقَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو تو وہ فحش کلامی نہ کرے، پھر اگر کوئی اُسے گالی دے یا بُرا بھلا کہے یا اُس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے تو اُسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے دار ہوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1993 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1993
فوائد:
➊ رفث سے مراد فحش اور بے ہودہ گوئی ہے اور جہالت سے مراد نازیبا کلمات ہیں۔ [شرح ابن بطال: 7/4]
لہذا حالتِ روزہ میں ان امور سے اجتناب برتا جائے، بصورتِ دیگر روزہ فاسد ہو جائے گا۔
➋ حالتِ روزہ میں جس شخص پر دشنام طرازی کی جائے یا اس پر جہالت کا ارتکاب کیا جائے تو وہ کہے کہ میں روزہ سے ہوں۔
پھر یہ کلمات وہ بلند آواز سے کہے یا دل میں، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
➌ ایک قول ہے کہ وہ با آوازِ بلند یہ کلمات کہے کہ ان کلمات کو سن کر دشنام طراز اور لڑائی جھگڑے پر اترنے والا شخص اپنی حماقت سے باز آجائے گا۔
➍ دوسرا قول ہے کہ وہ یہ کلمات اونچی آواز سے نہ کہے بلکہ یہ کلمات دل ہی میں کہے تاکہ وہ خود مقابلے میں گالی گلوچ اور لڑائی سے باز رہے اور ہر غلیظ افعال سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔
➎ لیکن اگر وہ ان دونوں صورتوں پر عمل کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
پھر فحش و بدگوئی اور مخاصمت و گالی گلوچ صرف روزہ دار کے لیے ممنوع نہیں بلکہ ہر شخص کے لیے یہ افعال ممنوع ہیں۔
لیکن روزہ دار کو ان سے اجتناب کی زیادہ تاکید ہے۔
➊ رفث سے مراد فحش اور بے ہودہ گوئی ہے اور جہالت سے مراد نازیبا کلمات ہیں۔ [شرح ابن بطال: 7/4]
لہذا حالتِ روزہ میں ان امور سے اجتناب برتا جائے، بصورتِ دیگر روزہ فاسد ہو جائے گا۔
➋ حالتِ روزہ میں جس شخص پر دشنام طرازی کی جائے یا اس پر جہالت کا ارتکاب کیا جائے تو وہ کہے کہ میں روزہ سے ہوں۔
پھر یہ کلمات وہ بلند آواز سے کہے یا دل میں، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
➌ ایک قول ہے کہ وہ با آوازِ بلند یہ کلمات کہے کہ ان کلمات کو سن کر دشنام طراز اور لڑائی جھگڑے پر اترنے والا شخص اپنی حماقت سے باز آجائے گا۔
➍ دوسرا قول ہے کہ وہ یہ کلمات اونچی آواز سے نہ کہے بلکہ یہ کلمات دل ہی میں کہے تاکہ وہ خود مقابلے میں گالی گلوچ اور لڑائی سے باز رہے اور ہر غلیظ افعال سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔
➎ لیکن اگر وہ ان دونوں صورتوں پر عمل کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
پھر فحش و بدگوئی اور مخاصمت و گالی گلوچ صرف روزہ دار کے لیے ممنوع نہیں بلکہ ہر شخص کے لیے یہ افعال ممنوع ہیں۔
لیکن روزہ دار کو ان سے اجتناب کی زیادہ تاکید ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1993]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1993 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي