صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اگر روزے دار کھڑا ہو اور اُسے گالی دی جائے تو اُسے بیٹھ جانا چاہیے تاکہ اُسے غصہ نہ آئے اور وہ گالی کا بدلہ نہ لے
حدیث نمبر: 1994
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاجْلِسْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے کی حالت میں گالی گلوچ مت کرو اور اگر تمہیں کوئی شخص گالی دے تو تم کہو کہ بیشک میں روزے دار ہوں۔ اور اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1994 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1994
فوائد:
➊ حالتِ روزہ میں گالی دینا اور سب و شتم کرنا حرام ہے۔
➋ اگر کوئی دوسرا شخص گالم گلوچ کرے تو اسے فقط اتنا کہنا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں۔
➌ اگر گالیاں برداشت سے باہر ہوں تو بیٹھ جائے کہ اس سے غصہ کافور ہو جائے گا اور وہ جہالت کا مرتکب نہیں ہو گا۔
➊ حالتِ روزہ میں گالی دینا اور سب و شتم کرنا حرام ہے۔
➋ اگر کوئی دوسرا شخص گالم گلوچ کرے تو اسے فقط اتنا کہنا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں۔
➌ اگر گالیاں برداشت سے باہر ہوں تو بیٹھ جائے کہ اس سے غصہ کافور ہو جائے گا اور وہ جہالت کا مرتکب نہیں ہو گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1994]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1994 in Urdu
عجلان مولى المشمعل ← أبو هريرة الدوسي