🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اگر روزے دار کھڑا ہو اور اُسے گالی دی جائے تو اُسے بیٹھ جانا چاہیے تاکہ اُسے غصہ نہ آئے اور وہ گالی کا بدلہ نہ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1994
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاجْلِسْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزے کی حالت میں گالی گلوچ مت کرو اور اگر تمہیں کوئی شخص گالی دے تو تم کہو کہ بیشک میں روزے دار ہوں۔ اور اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عجلان مولى المشمعل، أبو محمد
Newعجلان مولى المشمعل ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← عجلان مولى المشمعل
ثقة فقيه فاضل
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي
Newعثمان بن عمر العبدي ← محمد بن أبي ذئب العامري
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عثمان بن عمر العبدي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1994 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1994
فوائد:
➊ حالتِ روزہ میں گالی دینا اور سب و شتم کرنا حرام ہے۔
➋ اگر کوئی دوسرا شخص گالم گلوچ کرے تو اسے فقط اتنا کہنا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں۔
➌ اگر گالیاں برداشت سے باہر ہوں تو بیٹھ جائے کہ اس سے غصہ کافور ہو جائے گا اور وہ جہالت کا مرتکب نہیں ہو گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1994]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1994 in Urdu