صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
کھانے پینے سے اجتناب کرنے کے ساتھ دیگر ممنوع کام کرنے والے روزے دار کے ثواب کی نفی کا بیان -
حدیث نمبر: 1997
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں اُن کے روزوں سے صرف بھوک پیاس ہی حاصل ہوتی ہے۔ اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اُن کے قیام سے صرف شب بیداری (اور تھکاوٹ) ہی حاصل ہوتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1894، 1904، 5927، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1151، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1099، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، 1899، 1900، 1992، 1993، 1994، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3416، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1575، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 764، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7295»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1997 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1997
فوائد:
➊ جو شخص حالتِ روزہ میں غیبت، گالم گلوچ اور بیہودہ گوئی سے باز نہ آئے، یا افطاری میں حرام چیزوں کا استعمال کرے یا گناہوں سے باز نہ آئے، تو اسے دن بھر کی بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
➋ لہٰذا روزہ دار کو ان ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔
➌ اسی طرح ایسے تہجد گزار اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے جو اس میں ریاکاری کرتے ہیں، یا مغصوب زمین پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں، یا فرض نمازیں باجماعت ادا نہیں کرتے، انہیں رات کی بیداری کا اجر نہیں ملتا۔
➍ لہٰذا تہجد گزار ایسی عادات ترک کر دے، جس سے اجر و ثواب اور اعمال کی قبولیت میں نقص واقع ہوتا ہے۔
➊ جو شخص حالتِ روزہ میں غیبت، گالم گلوچ اور بیہودہ گوئی سے باز نہ آئے، یا افطاری میں حرام چیزوں کا استعمال کرے یا گناہوں سے باز نہ آئے، تو اسے دن بھر کی بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
➋ لہٰذا روزہ دار کو ان ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔
➌ اسی طرح ایسے تہجد گزار اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے جو اس میں ریاکاری کرتے ہیں، یا مغصوب زمین پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں، یا فرض نمازیں باجماعت ادا نہیں کرتے، انہیں رات کی بیداری کا اجر نہیں ملتا۔
➍ لہٰذا تہجد گزار ایسی عادات ترک کر دے، جس سے اجر و ثواب اور اعمال کی قبولیت میں نقص واقع ہوتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1997]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1997 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي