صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ روزے دار کے لئے بوسہ لینے کی رخصت تمام روزے داروں کے لئے ہے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص نہیں
حدیث نمبر: 2005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو بوسہ لینے کی رخصت دی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2005]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1967، 1968، 1969، 1979، 1980، 1981، 1982، 2005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3224،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8366، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9414»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2005 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2005
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالتِ روزہ میں بیوی کو بوسہ دینا خاصہ رسول نہیں، بلکہ تمام روزہ داروں کو اس کی رخصت ہے، البتہ جو جذبات میں بہہ جائیں ان کے لیے یہ عمل مکروہ ہے۔ اور انہیں اس عمل سے گریز کرنا چاہیے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالتِ روزہ میں بیوی کو بوسہ دینا خاصہ رسول نہیں، بلکہ تمام روزہ داروں کو اس کی رخصت ہے، البتہ جو جذبات میں بہہ جائیں ان کے لیے یہ عمل مکروہ ہے۔ اور انہیں اس عمل سے گریز کرنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2005]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2005 in Urdu
علي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري