صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے دار کے لئے سرمہ لگانے کی رخصت ہے بشرطیکہ روایت صحیح ہو اور اگر روایت صحیح نہ ہو تو قرآن مجید سرمہ لگانے کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے «فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ» ”اب تم (بیویوں سے رات کے وقت) مباشرت کرسکتے ہو“ یہ فرمان باری تعالیٰ روزے دار کے لئے سرمہ لگانے کی رخصت کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 2008
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَنَزَلْتُ مَعَهُ , فَدَعَانِي بِكُحْلِ إِثْمِدٍ , فَاكْتَحَلَ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ" إِثْمِدَ غَيْرَ مُمَسَّكٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَةِ هَذَا الإِسْنَادِ لِمَعْمَرٍ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تشریف فرما ہوئے تو میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا جبکہ آپ اثمد سرمہ لگا رہے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگایا جس میں خوشبو نہیں تھی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں معمر کی وجہ سے اس سند سے بری الذمہ ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8356، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1065، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 939»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2008 in Urdu
عبيد الله بن أسلم المدني ← أبو رافع القبطي