صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر اُس شخص کے لئے روزہ رکھنا جائز ہے جو جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہے اور طلوع فجر کے بعد غسل کرتا ہے
حدیث نمبر: 2015
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الأَمْرِ , فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ , فَقَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ آمُرُهُمْ بِالأَمْرِ يَرْغَبُونَ عَنْهُ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ , وَأَشَدُّهُمْ خَشْيَةً"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معاملے میں رخصت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے اعراض کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ میں انہیں ایک حُکم دیتا ہوں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم، میں ان سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہوں اور ان سے بڑھ کر اللہ سے ڈرتا ہوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6101، 7301، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2356، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2015، 2021، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9992، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5497، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24817»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى مسلم بن صبيح الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني | ثقة | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن صبيح الهمداني | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2015 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2015
فوائد:
➊ اگر روزہ دار حالتِ جنابت میں سحری تناول کر لے پھر اسی حالت میں سحری کا وقت ختم ہو جائے اور روزہ کا وقت شروع ہو جائے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا، بلکہ ایسا شخص اذان فجر کے بعد غسل کر کے نماز ادا کر لے اور اس کا روزہ باقی رہے گا، کیونکہ اذان فجر تک جماع کی رخصت ہے اور رخصت تک مباشرت کرنا جائز ہے پھر اس وقتِ جواز کے بعد طلوع فجر ہی کو غسل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس آیتِ مباشرت کا مفہوم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اس بات کی دلیل ہے کہ حالتِ جنابت میں فجر طلوع ہو جائے تو اس حالت میں روزہ رکھنا درست ہے اور ایسے شخص پر کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔
➋ ان احادیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی فعل سامنے آنے پر انہوں نے اپنے فتوے سے رجوع کر لیا۔ لہٰذا خیر و عظمت اسی چیز میں ہے کہ انسان اصل حقیقت معلوم ہونے پر اور دلیل کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اپنا موقف ترک کر دے۔
➌ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر حیض اور نفاس والی عورتوں کا خون رات کے وقت بند ہو جائے، پھر وقتِ طلوع فجر تک انہوں نے غسل نہ کیا ہو تو ان کا روزہ درست ہے، جسے مکمل کرنا واجب ہے۔ خواہ انہوں نے غسل عمداً ترک کیا ہو یا بھول کر، شافعیہ اور جمیع علماء کا یہی موقف ہے۔ [شرح النووي: 222/7]
➊ اگر روزہ دار حالتِ جنابت میں سحری تناول کر لے پھر اسی حالت میں سحری کا وقت ختم ہو جائے اور روزہ کا وقت شروع ہو جائے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا، بلکہ ایسا شخص اذان فجر کے بعد غسل کر کے نماز ادا کر لے اور اس کا روزہ باقی رہے گا، کیونکہ اذان فجر تک جماع کی رخصت ہے اور رخصت تک مباشرت کرنا جائز ہے پھر اس وقتِ جواز کے بعد طلوع فجر ہی کو غسل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس آیتِ مباشرت کا مفہوم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اس بات کی دلیل ہے کہ حالتِ جنابت میں فجر طلوع ہو جائے تو اس حالت میں روزہ رکھنا درست ہے اور ایسے شخص پر کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔
➋ ان احادیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی فعل سامنے آنے پر انہوں نے اپنے فتوے سے رجوع کر لیا۔ لہٰذا خیر و عظمت اسی چیز میں ہے کہ انسان اصل حقیقت معلوم ہونے پر اور دلیل کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اپنا موقف ترک کر دے۔
➌ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر حیض اور نفاس والی عورتوں کا خون رات کے وقت بند ہو جائے، پھر وقتِ طلوع فجر تک انہوں نے غسل نہ کیا ہو تو ان کا روزہ درست ہے، جسے مکمل کرنا واجب ہے۔ خواہ انہوں نے غسل عمداً ترک کیا ہو یا بھول کر، شافعیہ اور جمیع علماء کا یہی موقف ہے۔ [شرح النووي: 222/7]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2015]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2015 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق