صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے والا خادم، سفر میں روزہ رکھنے والے مخدوم سے بہتر و افضل ہے
حدیث نمبر: 2033
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَمِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ , فَنَزَلْنَا مَنْزِلا فِي يَوْمٍ حَارٍّ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ , وَأَكْثَرُنَا ظِلا صَاحِبُ الْكِسَاءِ يَسْتَظِلُّ بِهَا الصَّائِمُونَ , وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ , فَضَرَبُوا الأَبْنِيَةَ , وَسَقُوا الرِّكَابَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ افراد روزے دار تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ تو ہم ایک سخت گرمی والے دن شدید گرمی میں ایک منزل پر اُترے۔ ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھ سے سورج کی دھوپ سے بچ رہے تھے اور ہم میں سے زیادہ سائے والا وہ شخص تھا جس کے پاس چادر تھی اور روزے دار اس کے سائے میں جگہ لے رہے تھے۔ جن افراد نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ اُٹھے اور اُنہوں نے خیمے نصب کیے اور سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ نہ رکھنے والے آج اجر وثواب لے گئے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2033]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1947، 2890، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1118، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1033، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2032، 2033، 2039، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3559، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2282، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2405، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5523، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2302، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12463»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2033 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2033
فوائد:
◈ ابو عبداللہ بن ابی صفرہ کہتے ہیں:
➊ جہاد میں خدمت کا اجر روزہ رکھنے کے اجر و ثواب سے زیادہ ہے، کیونکہ روزہ نہ رکھنے والا جہاد، طلب علم اور دیگر افعال مثلاً کمزور کی معاونت، یا مسلمانوں کا بوجھ اٹھانے کی زیادہ قوت رکھتا ہے۔
➋ جہاد میں باہمی تعاون اور سفر و اقامت میں باہمی خدمت میں پیش پیش رہنا تمام مجاہدین پر واجب ہے۔ [شرح ابن بطال: 107/8]
◈ ابو عبداللہ بن ابی صفرہ کہتے ہیں:
➊ جہاد میں خدمت کا اجر روزہ رکھنے کے اجر و ثواب سے زیادہ ہے، کیونکہ روزہ نہ رکھنے والا جہاد، طلب علم اور دیگر افعال مثلاً کمزور کی معاونت، یا مسلمانوں کا بوجھ اٹھانے کی زیادہ قوت رکھتا ہے۔
➋ جہاد میں باہمی تعاون اور سفر و اقامت میں باہمی خدمت میں پیش پیش رہنا تمام مجاہدین پر واجب ہے۔ [شرح ابن بطال: 107/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2033]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2033 in Urdu
مورق العجلي ← أنس بن مالك الأنصاري