🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس روایت کا بیان جس سے بعض علماء کو وہم ہوا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا، سفر میں روزہ رکھنے کے جواز کا ناسخ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2035
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ" . وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ فَالآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ , وَزَادَ: قَالَ سُفْيَانُ: لا أَدْرِي هَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَوْ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکّہ والے سال (سفر کے دوران) روزے رکھے حتّیٰ کہ جب آپ الکدید مقام پر پہنچے تو روزہ کھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری اور مؤخر فرمان پر عمل کیا جائے گا۔ یہ جناب عبدالجبار کی روایت ہے۔ اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ امام سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں (یہ آخری جملہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے یا عبید اللہ یا امام زہری کا قول ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2035]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1944، 1948، 2953، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1113، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1031، وابن الجارود فى "المنتقى"، 437، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2035، 2036، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3555، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4383، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2404، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1661، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8238، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1917»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← علي بن خشرم المروزي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر
Newعبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2035 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2035
فوائد:
اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ حالت سفر میں روزوں کی اباحت کا حکم منسوخ ہو چکا ہے درست نہیں، کیونکہ «إنما يؤخذ بالأخر» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ نہیں، بلکہ یہ کسی اور راوی کے الفاظ ہیں۔
جس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل حالت سفر میں روزہ افطار کرنا ہی ہے۔
بالفرض یہ امر ثابت بھی ہو جائے، تب بھی سفر میں روزہ رکھنے کی اباحت منسوخ نہیں ہوتی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ توڑنا اس بات کی دلیل نہیں کہ حالت سفر میں روزہ نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ دیگر احادیث کا حکم باقی رہتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2035]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2035 in Urdu