صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حُکم فرضی حُکم نہیں تھا نہ ابتداء کے طور پر اور نہ گنتی کے اعتبار سے۔ بلکہ یہ فضیلت اور استحباب کا حُکم تھا
حدیث نمبر: 2085
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , خَطَبَ بِالْمَدِينَةِ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ , فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ , وَأَنَا صَائِمٌ , فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا يَكُونُ لَمْ إِلا مَاضِيًا
جناب حمید بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عاشورا کے دن مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو اُنہوں نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا کہ ”اے اہل مدینہ، تمہارے علماء کرام کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”یہ عاشوراء کا دن ہے، تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا گیا۔ جبکہ میں نے روزہ رکھا ہے تو جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے، وہ روزہ رکھ لے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”لم“ (نہیں) صرف ماضی کے لئے آتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2003، 3468، 5932، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1129، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1053، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2085، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3626، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2370، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4167، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2781، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4297، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17140»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2085 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2085
فوائد:
➊ اس حدیث سے مصنف رحمہ اللہ کا یہ استدلال کرنا کہ عاشورہ کے روزے کا حکم استحبابی تھا، وجوبی نہیں تھا، محلِ نظر ہے۔ کیونکہ گزشتہ احادیث صریح دلیل ہیں کہ عاشورہ کے روزے کا حکم فرضیتِ رمضان سے قبل وجوبی تھا، استحباب کے لیے نہیں بلکہ فرضیتِ رمضان کے بعد عاشورہ کے روزے کی فرضیت معدوم ہو گئی ہے۔
➊ اس حدیث سے مصنف رحمہ اللہ کا یہ استدلال کرنا کہ عاشورہ کے روزے کا حکم استحبابی تھا، وجوبی نہیں تھا، محلِ نظر ہے۔ کیونکہ گزشتہ احادیث صریح دلیل ہیں کہ عاشورہ کے روزے کا حکم فرضیتِ رمضان سے قبل وجوبی تھا، استحباب کے لیے نہیں بلکہ فرضیتِ رمضان کے بعد عاشورہ کے روزے کی فرضیت معدوم ہو گئی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2085]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2085 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← معاوية بن أبي سفيان الأموي