صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عشرہ ذوالحجہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ نہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمِ الْعَشْرَ" . وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحجہ کے دس دنوں میں روزہ نہیں رکھا۔ جناب ابوبکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذوالحجہ میں کبھی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2103]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1176، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2103، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2439، والترمذي فى (جامعه) برقم: 756، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 354، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8482، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24781»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2103 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2103
فوائد:
➊ شافعی، مالک، ابوحنیفہ اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ حاجی کے لیے عرفات میں عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھنا مستحب فعل ہے اور یہی مذہب راجح ہے۔ [شرح النووي: 118]
➋ عرفہ میں وقوف کرنے والا عرفہ کا روزہ چھوڑ دے۔ یہ بہتر عمل ہے۔
➌ سواری پر وقوف کرنا مستحب فعل ہے۔
➊ شافعی، مالک، ابوحنیفہ اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ حاجی کے لیے عرفات میں عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھنا مستحب فعل ہے اور یہی مذہب راجح ہے۔ [شرح النووي: 118]
➋ عرفہ میں وقوف کرنے والا عرفہ کا روزہ چھوڑ دے۔ یہ بہتر عمل ہے۔
➌ سواری پر وقوف کرنا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2103]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2103 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق