🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ناغہ کرنے کی استطاعت ملنے کی تمنّا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2111
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟" قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ". قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ:" وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن ناغہ کرے اس کا کیا حال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص اس کی طاقت رکھتا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی کہ اس شخص کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ چھوڑتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ طریقہ حضرت داؤد عليه السلام کے روزوں کا ہے۔ انہوں نے پوچھا تو وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن نہ رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش اور چاہت ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت نصیب ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2111]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2111، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1713»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادة
Newالحارث بن ربعي السلمي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبد الله بن معبد الزماني
Newعبد الله بن معبد الزماني ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥غيلان بن جرير المعولي
Newغيلان بن جرير المعولي ← عبد الله بن معبد الزماني
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← غيلان بن جرير المعولي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2111 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2111
فوائد:
➊ سارا سال دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا انسان کے لیے بہت زیادہ مشقت کا باعث ہے کہ اس سے پیدا ہونے والے ضعف سے انسان بیوی کے حقوق اور دیگر عبادات و معاملات میں سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑنا افضل ہے۔
«وَدَدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذٰلِكَ» کے بارے میں ◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اس کا مفہوم ہے کہ میری خواہش ہے کہ میری امت کو اس عمل (ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن روزہ چھوڑنے) کی طاقت نصیب ہو۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عمل کی بلکہ اس سے اکثر کی بھی طاقت رکھتے تھے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سحری و افطاری کے بغیر کئی دن مسلسل روزہ رکھتے تھے۔ [شرح النووي: 179/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2111]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2111 in Urdu