صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اللہ تعالیٰ ایک دن کا روزہ رکھنے والے کے لئے جنّت واجب کردیتے ہیں جبکہ وہ اپنے روزے کے ساتھ ساتھ صدقہ کرے، نماز جنازہ میں شرکت کرے اور مریض کی تیمارداری کرے
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ أَمْلَى بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ:" مَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ:" مَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالُ:" مَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اجْتَمَعَتْ هَذِهِ الْخِصَالُ قَطُّ فِي رَجُلٍ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الإِيمَانِ، فَلَوْ كَانَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ"، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الإِيمَانِ، قَوْلُ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، لَكَانَ فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الإِيمَانِ صَوْمُ يَوْمٍ، وَإِطْعَامُ مِسْكِينٍ، وَشُهُودُ جَنَازَةٍ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، لَكِنْ هَذِهِ فَضَائِلُ لِهَذِهِ الأَعْمَالِ، لا كَمَا يَدَّعِي مَنْ لا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلا يُحْسِنُهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کس نے آج صبح روزے کی حالت میں کی ہے“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کس شخص نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کھلایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”تم میں سے کس شخص نے آج جنازے میں شرکت کی ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ میں نے شرکت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص میں بھی یہ خوبیاں جمع ہو جائیں وہ جنّت میں داخل ہوگا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت اسی قسم سے ہے جسے میں نے کتاب الایمان میں بیان کیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ”جس شخص نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» کا اقرار کیا وہ جنّت میں داخل ہوگا۔“ میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» کا اقرار ہی مکمّل ایمان ہے تو پھر اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ مکمّل ایمان ایک روزہ رکھنا، مسکین کو کھانا کھلانا، جنازے میں شریک ہونا اور بیمار کی تیمار داری کرنا ہے۔ لیکن یہ تو ان اعمال کے فضائل ہیں۔ ان سے مقصود وہ نہیں ہے جیسا کہ کم علم ناتجربہ کار لوگوں نے دعویٰ کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2131، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8053، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7924، والبزار فى (مسنده) برقم: 9754»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين يزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله مروان بن معاوية الفزاري ← يزيد بن كيسان اليشكري | ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ | |
👤←👥العباس بن يزيد البحراني، أبو الفضل العباس بن يزيد البحراني ← مروان بن معاوية الفزاري | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2131 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2131
فوائد:
➊ جو شخص ایک دن میں نفلی روزہ رکھے، مسکین کو کھانا کھلائے، نماز جنازہ میں شریک ہو اور مریض کی عیادت کرے تو ایک ہی دن میں یہ نیک اعمال اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے ہیں۔
➊ جو شخص ایک دن میں نفلی روزہ رکھے، مسکین کو کھانا کھلائے، نماز جنازہ میں شریک ہو اور مریض کی عیادت کرے تو ایک ہی دن میں یہ نیک اعمال اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2131]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2131 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي