صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر مہینے کے تین روزے عمر بھر کے روزوں کے قائم مقام ہوں گے، خواہ یہ تین روزے مہینے کے شروع میں، مہینے کے وسط میں یا اس کے آخر میں رکھے جائیں
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2130
فَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ الرِّشْكُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ، أَوْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ؟" قَالَتْ:" نَعَمْ". قَالَتْ: مِنْ أَيِّهِ؟ قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ صَامَ"
سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے روزے رکھتے تھے۔ یا کیا آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ انہوں نے پوچھا کہ کون سے دنوں میں رکھتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ اس کی پروا نہیں کرتے تھے کہ کن دنوں کا روزہ رکھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
معاذة بنت عبد الله العدوية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق