صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عمر بھر روزوں کی فضیلت کا بیان جبکہ ممنوعہ دنوں کے روزے نہ رکھے
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِي يَصُومُ الدَّهْرَ تُضَيَّقُ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ تَضَيُّقَ هَذِهِ" وَعَقَدَ تِسْعِينَ . قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ فِي الَّذِي يَصُومُ الدَّهْرَ، وَقَالَ: وَعَقَدَ التِّسْعِينَ. سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ: اسْمُ أَبِي تَمِيمَةَ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ، سَمِعَهُ مِنْ مَسْلَمَةَ بْنِ الصَّلْتِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَهْضَمٍ الْهُجَيْمِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يُسْنِدْ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَأَلْتُ الْمُزَنِيَّ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ مَعْنَاهُ، أَيْ: ضُيِّقَتْ عَنْهُ جَهَنَّمُ، فَلا يَدْخُلُ جَهَنَّمَ، وَلا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ غَيْرَ هَذَا ؛ لأَنَّ مَنِ ازْدَادَ لِلَّهِ عَمَلا، وَطَاعَةً، ازْدَادَ عِنْدَ اللَّهِ رِفْعَةً، وَعَلَيْهِ كَرَامَةً، وَإِلَيْهِ قُرْبَةً. هَذَا مَعْنَى جَوَابِ الْمُزَنِيِّ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو زمانہ بھر ہمیشہ روزہ رکھتا ہے تو اُس پر جہنّم اس طرح تنگ کردی جاتی ہے جس طرح یہ تنگ ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بناتے ہوئے اُنگلیوں میں گرہ لگائی۔“ جناب ابن بزیع کی روایت میں ہے کہ اس شخص کے بارے میں جو زمانہ بھر روزے رکھتا ہے۔ اور کہا کہ نوے کی گرہ لگا کر دکھائی۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ ابوتمیمہ کا نام طریف بن مجالد ہے اور اس نے مسلمہ بن صلت اور جہضم الہجیمی سے روایات سنی ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کو قتادہ سے صرف ابن ابی عدی نے سعید کے واسطے سے مسند بیان کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے امام مزنی رحمه الله سے اس حدیث کا معنی پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ ممکن ہے اس کا معنی یہ ہو کہ اس شخص سے جہنّم تنگ کر دی جائے گی لہٰذا وہ جہنّم میں داخل نہیں ہوگا اور اس کے علاوہ اس کا کوئی معنی نہیں ہو سکتا کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے زیادہ عمل کرتا ہے اور اطاعت و فرمانبرداری میں آگے بڑھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام و مرتبہ، عزّت وکرامت اور قرب میں بھی زیادہ ہوگا۔ یہ امام مزنی رحمه الله کے جواب کا معنی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2154، 2155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3584، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8569، 8570، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20027»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2155 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2155
فوائد:
➊ جو شخص زمانے بھر کے روزوں کی طاقت رکھتا ہے اور عیدین، ایامِ تشریق اور دیگر ممنوعہ روزوں سے اجتناب کرے تو وہ واقعی جہنم سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
➋ شافعی اور اصحابِ شافعی کا مذہب ہے کہ عیدین اور ایامِ تشریق کے سوا مسلسل روزے رکھنا جائز ہیں، مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہیں۔ بشرطیکہ اس عمل سے کوئی حق فوت نہ ہو اور اسے سخت تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ [تحفۃ الأحوذي: 309/2]
➊ جو شخص زمانے بھر کے روزوں کی طاقت رکھتا ہے اور عیدین، ایامِ تشریق اور دیگر ممنوعہ روزوں سے اجتناب کرے تو وہ واقعی جہنم سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
➋ شافعی اور اصحابِ شافعی کا مذہب ہے کہ عیدین اور ایامِ تشریق کے سوا مسلسل روزے رکھنا جائز ہیں، مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہیں۔ بشرطیکہ اس عمل سے کوئی حق فوت نہ ہو اور اسے سخت تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ [تحفۃ الأحوذي: 309/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2155]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2155 in Urdu
طريف بن مجالد السلي ← عبد الله بن قيس الأشعري