🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہفتے کے دن نفلی روزہ رکھنے کی ممانعت اس وقت ہے جب اکیلے ہفتے کا روزہ رکھا جائے اور اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھا جائے ہفتے کے دن روزہ رکھنے کی رخصت ہے جبکہ روزے دار اس کے بعد اتوار کا روزہ بھی رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2167
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَسْأَلُهَا الأَيَّامَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صِيَامًا؟ قَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَالأَحَدِ. فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ، فَأَخْبَرْتُهُمْ وَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا، فَقَالُوا: إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا، وَذَكَرَ أَنَّكِ قُلْتِ: كَذَا وَكَذَا. فَقَالَتْ: صَدَقَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الأَيَّامِ يَوْمَ السَّبْتِ وَالأَحَدِ، كَانَ يَقُولُ: " إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجھے سیدہ امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ میں اُن سے پوچھ کرآؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کن دنوں کا بکثرت روزہ رکھا کرتے تھے۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ ہفتہ اور اتوار کا روزہ بکثرت رکھتے تھے۔ پس میں نے واپس آکر اُنہیں اس کی خبر دی تو گویا اُنہوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا، وہ تمام افراد اُٹھ کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے اسے آپ کی خدمت میں یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا تھا اور اس نے ہمیں بتایا ہے کہ آپ نے اس کا یہ جواب دیا ہے۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ اس نے سچ بتایا ہے۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر ہفتہ اور اتوار کا روزہ رکھتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ ”یہ دو دن مشرکوں کے عید کے دن ہیں (وہ ان میں کھاتے پیتے ہیں) اور میں (روزہ رکھ کر) ان کی مخالف کرنا چاہتا ہوں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2167، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3616، 3646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1599، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2788، 2789، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8589، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27392، والطبراني فى(الكبير) برقم: 616، 964، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3857»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عمر القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمر القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن محمد القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد القرشي ← محمد بن عمر القرشي
مقبول
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← عبد الله بن محمد القرشي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سلمة بن سليمان المؤدب، أبو سليمان، أبو أيوب
Newسلمة بن سليمان المؤدب ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن منصور الحنظلى، أبو صالح
Newأحمد بن منصور الحنظلى ← سلمة بن سليمان المؤدب
صدوق حسن الحديث
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2167 in Urdu