علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہفتے کے دن نفلی روزہ رکھنے کی ممانعت اس وقت ہے جب اکیلے ہفتے کا روزہ رکھا جائے اور اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھا جائے ہفتے کے دن روزہ رکھنے کی رخصت ہے جبکہ روزے دار اس کے بعد اتوار کا روزہ بھی رکھے
حدیث نمبر: 2166
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الأَشْعَرِيِّ وَهُوَ ابْنُ لُدَيْنٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْجُمُعَةُ عِيدٌ، فَلا تَجْعَلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ صِيَامًا، إِلا أَنْ يُصَامَ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ إِذَا صَامَ صَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جمعہ کا دن عید ہے لہٰذا تم جمعہ کے دن کو روزہ مت رکھو الاّ یہ کہ اس سے پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے جبکہ روزے دار اس سے پہلے جمعہ کے دن بھی روزہ رکھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1985، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1144، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2158، 2161، 2166، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3614، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1601، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2769، 2770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2420، والترمذي فى (جامعه) برقم: 743، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1723، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8580، 8581، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8140»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2166 in Urdu
عامر بن لدين الأشعري ← أبو هريرة الدوسي