صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
تئیسویں رات کو شب قدر تلاش کرنے کے حُکم کا بیان، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ شب قدر کسی سال اکیسویں رات میں ہو اور کسی سال تئیسویں رات میں ہو
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَخِيهِ فُلانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، قَالَ: جَلَسْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ فِي مَجْلِسِ جُهَيْنَةَ فِي هَذَا الشَّهْرِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا يَحْيَى هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الْمُبَارَكَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ هَذَا الشَّهْرِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَتَى نَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ الْمُبَارَكَةَ؟ قَالَ:" الْتَمِسُوهَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثَلاثًا وَعِشْرِينَ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: تِلْكَ إِذًا أُولَى ثَمَانٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ ابْنُ عُلَيَّةَ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ
جناب عبداللہ بن عبداللہ بن خبیب بیان کرتے ہیں کہ ہم اس مہینے میں (رمضان المبارک میں) جہینہ قبیلے کی مجلس میں سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تو ہم نے عرض کیا کہ اے ابویحییٰ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مبارک رات کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ جی ہاں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مہینے کے آخر میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کی کہ ہم اس مبارک رات کو کب تلاش کریں؟ آپ نے فرمایا: ”اس کو اس تئیسویں رات میں تلاش کرو تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ تب تو یہ رات آٹھوں راتوں میں سے پہلی رات ہوئی۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابن علیہ نے جس راوی کا نام نہیں لیا، اس کا نام عبداللہ بن خبیب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث: صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عبد الله الجهني ← عبد الله بن أنيس الجهني