صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر کی صبح سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعائیں نہیں ہوں گی۔ اسی طرح شام کے وقت بھی اس کی شعائیں نہیں ہوں گی
حدیث نمبر: 2193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؛ فَإِنَّ صَاحِبَنَا يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا. قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا، أَوْ أَحَبَّ أَنْ لا يَتَّكِلُوا. وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، لا يَسْتَثْنِي". قَالَ: قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الآيَةُ؟ قَالَ: " تَطْلُعُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الطَّسْتِ حَتَّى تَرْتَفِعَ"
حضرت زرّ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ ہمارے ساتھی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ جو شخص سارا قیام کرے وہ شب قدر پالے گا۔ تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمان پر رحم فرمائے۔ یقیناً انہیں علم ہے کہ شب قدر رمضان المبارک میں ہے لیکن اُنہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ لوگ بھروسہ کرلیں (اور عبادت میں محنت چھوڑ دیں) یا اُنہوں نے پسند کیا ہے کہ لوگ بھروسہ نہ کریں۔ اللہ کی قسم، شب قدر رمضان المبارک میں ستائیسویں رات ہے، اُنہوں نے اس میں استثنا، نہیں کیا (بلکہ قسم کے ساتھ ستا ئیسویں رات قرار دی) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، ابومنذر یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوئی؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اس نشانی سے معلوم ہوئی جو نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔ جناب عاصم کہتے ہیں کہ میں نے زرّ رحمه الله سے کہا کہ وہ نشانی کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ شب قدر کی صبح سورج تھال کی مانند طلوع ہوگا، بلند ہونے تک اس کی شعاعیں نہیں ہوں گی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2193]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 762، 762، وابن الجارود فى "المنتقى"، 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2187، 2188، 2191، 2193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3689، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5357، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3392، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1378، والترمذي فى (جامعه) برقم: 793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8643، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21581»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيل | صحابي | |
👤←👥زر بن حبيش الأسدي، أبو مطرف، أبو مريم زر بن حبيش الأسدي ← أبي بن كعب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← زر بن حبيش الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله أحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2193 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2193
فوائد:
➊ شب قدر انتہائی روشن اور پرسکون رات ہے۔
➋ شب قدر کی صبح کو طلوع آفتاب کے وقت سورج مدھم اور سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور سورج بلند ہونے تک اس کی شعاعیں نہیں پھیلتیں۔ ان علامات سے شب قدر کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
➊ شب قدر انتہائی روشن اور پرسکون رات ہے۔
➋ شب قدر کی صبح کو طلوع آفتاب کے وقت سورج مدھم اور سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور سورج بلند ہونے تک اس کی شعاعیں نہیں پھیلتیں۔ ان علامات سے شب قدر کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2193]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2193 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← أبي بن كعب الأنصاري