🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین راتوں میں خصوصاً قیام، ان میں شب قدر کے ہونے کی وجہ سے کرایا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَامَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا أَحْسِبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلا وَرَاءَكُمْ"، ثُمَّ قَامَ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا أَحْسِبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلا وَرَاءَكُمْ"، ثُمَّ قُمْنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ إِلَى الصُّبْحِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ:" إِلا وَرَاءَكُمْ"، هُوَ عِنْدِي مِنْ بَابِ الأَضْدَادِ، وَيُرِيدُ: أَمَامَكُمْ ؛ لأَنَّ مَا قَدْ مَضَى هُوَ وَرَاءُ الْمَرْءِ، وَمَا يَسْتَقْبِلُهُ هُوَ أَمَامُهُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ:" مَا أَحْسِبُ مَا تَطْلُبُونَ" أَيْ: لَيْلَةَ الْقَدْرِ، إِلا فِيمَا تَسْتَقْبِلُونَ، لا أَنَّهَا فِيمَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا سورة الكهف آية 79. يُرِيدُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں تئیسویں رات کو ہمیں پہلی تہائی رات تک نفل پڑھائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جسے تلاش کر رہے ہو وہ تمہارے آگے ہے۔ پھر پچیسویں رات کو آدھی رات تک قیام کیا۔ پھر فرمایا: میراخیال ہے کہ تمہاری مطلوبہ چیز آگے ہے۔ پھر ہم نے ستا ئیسویں رات کو صبح تک نفل پڑھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ الاّ وراءكم (تمہارے پیچھے) یہ میرے نزدیک المستدرک للحاکم ضداد کے باب سے ہے۔ اور آپ کی مراد اس سے آگے ہے کیونکہ جو چیز گزر جائے وہ آدمی کے پیچھے ہوتی ہے اور جو آنے والی ہو وہ اُس کے آگے ہوتی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ میرے خیال میں جو تم طلب کر رہے ہو یعنی شب قدر، تو وہ تمہارے آگے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ گزشتہ دنوں میں تھی اور آپ کا یہ فرمان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے «‏‏‏‏وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا» ‏‏‏‏ [ سورة الكهف: 79 ] جب کہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی غصب کرلیتا تھا۔ آیت میں مذکور لفظ وَرَاءَهُم کا معنی بھی ان کے آگے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2205]
تخریج الحدیث: اسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥حدير بن كريب الحضرمي، أبو الزاهرية
Newحدير بن كريب الحضرمي ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← حدير بن كريب الحضرمي
صدوق له أوهام
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← معاوية بن صالح الحضرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل
Newعبدة بن عبد الله الخزاعي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة