صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
175. (174) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْوُضُوءِ عِنْدَ إِرَادَةِ الْجِمَاعِ [أَمْرُ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ]،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ دوبارہ جماع کا ارادہ کرتے وقت وضو کرنے کا حکم ندب و ارشاد کے لیے ہے
حدیث نمبر: Q221
إِذِ الْمُتَوَضِّئُ بَعْدَ الْجِمَاعِ يَكُونُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدَةِ إِلَى الْجِمَاعِ، لَا أَنَّ الْوُضُوءَ بَيْنَ الْجِمَاعَيْنِ وَاجِبٌ، وَلَا أَنَّ الْجِمَاعَ قَبْلَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْجِمَاعِ الْأَوَّلِ مَحْظُورٌ.
کیونکہ جماع کرنے کے بعد وضو کرنے والا دوبارہ جماع کے لیے تازہ دم ہو جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ دو مرتبہ جماع کے درمیان وضو کرنا واجب ہے اور نہ اس لیے کہ پہلے جماع کے بعد اور وضو کرنے سے پہلے (دوبارہ) جماع کرنا منع اور ناجائز ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: Q221]
حدیث نمبر: 221
نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْعَوْدَ فَلْيَتَوَضَّأْ، فَإِنَّهُ أُنْشِطُ لَهُ فِي الْعَوْدِ"
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی شخص دوبارہ جماع کا ارداہ کرے تو اُسے چاہیے کہ وضو کرلے کیونکہ وہ اُس کے لئے دوبارہ جماع کرنے میں چُستی اور مستعدی کا باعث ہو گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 308، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 219، 221، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1210، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 544، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 262، وأبو داود فى (سننه) برقم: 220، والترمذي فى (جامعه) برقم: 141، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 587، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1001، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11193»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 221 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 221
فوائد:
➊ بیوی سے دوبارہ مباشرت کرنے سے قبل شرعی وضو کرنا مستحب عمل ہے، جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ [عون المعبود: 224/1]
➋ البتہ اگر وہ وضو ترک کر دے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ کیونکہ ❀ «فَإِنَّهُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدِ» قرینہ صارفہ ہے، یہ امر کو استحباب میں تبدیل کرنے کا قرینہ ہے۔ البتہ دوبارہ مباشرت سے قبل وضو کرنا افضل ہے۔
➌ اس وضو کا فائدہ یہ ہے کہ انسان سستی اور کاہلی کا شکار نہیں ہوتا اور اس عمل سے بدنِ انسانی میں نشاط اور توانائی لوٹ آتی ہے۔
➊ بیوی سے دوبارہ مباشرت کرنے سے قبل شرعی وضو کرنا مستحب عمل ہے، جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ [عون المعبود: 224/1]
➋ البتہ اگر وہ وضو ترک کر دے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ کیونکہ ❀ «فَإِنَّهُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدِ» قرینہ صارفہ ہے، یہ امر کو استحباب میں تبدیل کرنے کا قرینہ ہے۔ البتہ دوبارہ مباشرت سے قبل وضو کرنا افضل ہے۔
➌ اس وضو کا فائدہ یہ ہے کہ انسان سستی اور کاہلی کا شکار نہیں ہوتا اور اس عمل سے بدنِ انسانی میں نشاط اور توانائی لوٹ آتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 221]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 221 in Urdu
علي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري