صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نیک اعمال میں خوب محنت کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2215
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جتنی محنت و کوشش آخری عشرے میں کرتے تھے، اتنی دوسرے کسی عشرے میں نہیں کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2215]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1175، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2215، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3376، والترمذي فى (جامعه) برقم: 796، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1767، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25166»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2215 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2215
فوائد:
➊ کمر کسنے سے مراد معمول سے زیادہ عبادت کرنا ہے اور عبادات میں مشغولیت کی وجہ سے بیویوں سے کنارہ کشی کی طرف اشارہ ہے۔
➋ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادات میں اضافہ مستحب فعل ہے۔
➌ آخری عشرہ کی راتیں عبادات میں گزارنا اور شب بیدار رہنا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 8/71]
➊ کمر کسنے سے مراد معمول سے زیادہ عبادت کرنا ہے اور عبادات میں مشغولیت کی وجہ سے بیویوں سے کنارہ کشی کی طرف اشارہ ہے۔
➋ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادات میں اضافہ مستحب فعل ہے۔
➌ آخری عشرہ کی راتیں عبادات میں گزارنا اور شب بیدار رہنا مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 8/71]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2215]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2215 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق