صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جس شخص نے شرک کی حالت میں اعتکاف کرنے کی نذر مانی ہو پھر وہ نذر پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہو جائے تو اُسے نذر پوری کرنے کے حُکم کا بیان۔ اور رمضان المبارک کے عشرے میں ایک رات کا اعتکاف بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ عُمَرَ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرُ اعْتِكَافٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَهَبَ لَهُ جَارِيَةً مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ، فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ النَّاسُ يُكَبِّرُونَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ سَبْيَ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَأَرْسَلُوا تِلْكَ الْجَارِيَةَ" . وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي خَبَرِ نَافِعٍ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا، فَإِنْ ثَبَتَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تَقُولُ يَوْمًا بِلَيْلَتِهِ، وَتَقُولُ: لَيْلَةٌ تُرِيدُ بِيَوْمِهَا، وَقَدْ ثَبَتَتِ الْحُجَّةُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ جاہلیت میں مانی ہوئی ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر تھی۔ تو اُنہوں نے (اس بارے میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اعتکاف کرنے کا حُکم دیا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں حنین کے قیدیوں میں سے ایک لونڈی دی تھی۔ پس اس دوران کہ وہ مسجد حرام میں اعتکاف کے لئے بیٹھے ہوئے تھے جب لوگ اللہ اکبر کہتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ یہ کیا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدی آزاد کر دیئے ہیں (اور لوگ خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کر رہے ہیں) سیدنا عمررضی اللہ عنہ کہا کہ تو وہ لونڈی بھی آزاد کردو۔ حضرت نافع کی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے ایک راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک میں نے ایک دن اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔ اگر یہ الفاظ ثابت ہوجائیں تو یہ اسی قسم سے ہوں گے جسے میں بیان کرچکا ہوں کہ عرب لوگ کبھی دن بول کر رات سمیت دن مراد لیتے ہیں اور کبھی رات بول کردن سمیت رات مراد لیتے ہیں اور اس مسئلے کی دلیل اللہ کی کتاب سے ثابت ہوچکی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2228، 2229»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← أيوب السختياني | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر عبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2229 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2229
فوائد:
➊ ان احادیث میں مذہب شافعی کے موقف کی دلیل ہے کہ روزہ کے بغیر اعتکاف کرنا جائز ہے اور ایک دن اور ایک رات کا اعتکاف بھی صحیح ہے۔ [شرح النووي: 11/24]
➊ ان احادیث میں مذہب شافعی کے موقف کی دلیل ہے کہ روزہ کے بغیر اعتکاف کرنا جائز ہے اور ایک دن اور ایک رات کا اعتکاف بھی صحیح ہے۔ [شرح النووي: 11/24]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2229]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2229 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي