الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1557. (2) باب البيان أن إيتاء الزكاة من الإيمان؛ إذ الإيمان والإسلام اسمان لمعنى واحد
اس بات کا بیان کہ زکاۃ ایمان کا جُز ہے کیونکہ ایمان اور اسلام ایک ہی (چیز) کے دو نام ہیں
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ: شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ پھر مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی۔ اور فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“ پھر اُنہیں اس کی تفسیر یہ بتائی کہ اس سے مراد یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچامعبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/زكوٰة كے احكام و مسائل/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي