صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1582. (27) باب الزجر عن الجمع بين المتفرق والتفريق بين المجتمع فى السوائم خيفة الصدقة وتراجع الخليطين بينهما بالسوية فيما أخذ المصدق ماشيتهما جميعا
زکوٰۃ کے ڈر سے الگ الگ چرنے والے جانوروں کو جمع کرنے اور اکٹھے چرنے والے جانوروں کا علیحدہ علیحدہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2279
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى , وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ"، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَقَالُوا: " لا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ، فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے میرے لئے یہ تحریر لکھوائی ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ یہ زکوٰۃ کی فرضیت کے وہ احکام ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر واجب کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کا حُکم دیا ہے پھر راویوں نے مکمّل حدیث بیان کی ہے اور یہ الفاظ بھی روایت کیے کہ زکوٰۃ کے ڈر سے الگ الگ جانوروں کو جمع نہ کیا جائے اور نہ اکٹھے جانوروں کو الگ الگ کیا جائے اور دونوں شریک زکوٰۃ کی وصولی میں برابر برابر شریک ہوں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1448، 1450، 1451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2261، 2273، 2279، 2281، 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2446، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1567، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7346، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 73»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2279 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2279
فوائد:
➊ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت مال میں حصہ داروں کا زکوٰۃ کی کمی کی خاطر مال بانٹ لینا یا اکٹھا کر لینا ناجائز ہے۔
مثلاً اگر دو آدمیوں کی چالیس چالیس بکریاں ہیں، جن میں ہر مالک کی ایک ایک بکری زکوٰۃ ہے۔
لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت یہ دونوں مال اکٹھا کر لیں اور اسے شراکت کا رنگ دے کر زکوٰۃ کی مد میں کمی کرا لیں کہ 80 بکریوں پر بھی ایک بکری زکوٰۃ ہے، یہ عمل ناجائز ہے۔
اگر ان کا مال علیحدہ علیحدہ تھا، تو زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت بھی اسے علیحدہ ہی باور کرایا جائے۔
➋ پھر مال کو متفرق کرنے کی مثال یہ ہے کہ بکریوں کے دو حصہ داروں میں سے ہر ایک کی ایک سو پانچ، ایک سو پانچ بکریاں ہیں، حالانکہ ان کا مال مشترک ہے۔
یوں ان دونوں حصہ داروں کے مال کی زکوٰۃ تین بکریاں بنتی ہیں، لیکن مال کو الگ الگ باور کرانے سے مال کی زکوٰۃ دو بکریاں بنتی ہے۔
اس نقصان سے بچنے کے لیے مشترک مال کو الگ الگ کرنا ناجائز ہے۔
علیٰ ہذا القیاس باقی اجناس میں بھی یہ صورتیں ممنوع ہیں۔
➊ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت مال میں حصہ داروں کا زکوٰۃ کی کمی کی خاطر مال بانٹ لینا یا اکٹھا کر لینا ناجائز ہے۔
مثلاً اگر دو آدمیوں کی چالیس چالیس بکریاں ہیں، جن میں ہر مالک کی ایک ایک بکری زکوٰۃ ہے۔
لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت یہ دونوں مال اکٹھا کر لیں اور اسے شراکت کا رنگ دے کر زکوٰۃ کی مد میں کمی کرا لیں کہ 80 بکریوں پر بھی ایک بکری زکوٰۃ ہے، یہ عمل ناجائز ہے۔
اگر ان کا مال علیحدہ علیحدہ تھا، تو زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت بھی اسے علیحدہ ہی باور کرایا جائے۔
➋ پھر مال کو متفرق کرنے کی مثال یہ ہے کہ بکریوں کے دو حصہ داروں میں سے ہر ایک کی ایک سو پانچ، ایک سو پانچ بکریاں ہیں، حالانکہ ان کا مال مشترک ہے۔
یوں ان دونوں حصہ داروں کے مال کی زکوٰۃ تین بکریاں بنتی ہیں، لیکن مال کو الگ الگ باور کرانے سے مال کی زکوٰۃ دو بکریاں بنتی ہے۔
اس نقصان سے بچنے کے لیے مشترک مال کو الگ الگ کرنا ناجائز ہے۔
علیٰ ہذا القیاس باقی اجناس میں بھی یہ صورتیں ممنوع ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2279]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2279 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق