🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1582. ‏(‏27‏)‏ باب الزجر عن الجمع بين المتفرق والتفريق بين المجتمع فى السوائم خيفة الصدقة وتراجع الخليطين بينهما بالسوية فيما أخذ المصدق ماشيتهما جميعا
زکوٰۃ کے ڈر سے الگ الگ چرنے والے جانوروں کو جمع کرنے اور اکٹھے چرنے والے جانوروں کا علیحدہ علیحدہ کرنے کی ممانعت کا بیان
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2279
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى , وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ"، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَقَالُوا: " لا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ، فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے میرے لئے یہ تحریر لکھوائی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یہ زکوٰۃ کی فرضیت کے وہ احکام ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر واجب کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کا حُکم دیا ہے پھر راویوں نے مکمّل حدیث بیان کی ہے اور یہ الفاظ بھی روایت کیے کہ زکوٰۃ کے ڈر سے الگ الگ جانوروں کو جمع نہ کیا جائے اور نہ اکٹھے جانوروں کو الگ الگ کیا جائے اور دونوں شریک زکوٰۃ کی وصولی میں برابر برابر شریک ہوں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1448، 1450، 1451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2261، 2273، 2279، 2281، 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2446، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1567، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7346، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 73»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكرصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق
صحابي
👤←👥ثمامة بن عبد الله الأنصاري
Newثمامة بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن المثنى الأنصاري، أبو المثنى
Newعبد الله بن المثنى الأنصاري ← ثمامة بن عبد الله الأنصاري
صدوق كثير الخطأ
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← عبد الله بن المثنى الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن عبد الله الأنصاري
ثقة حافظ جليل
👤←👥يوسف بن موسى الرازي، أبو يعقوب
Newيوسف بن موسى الرازي ← محمد بن يحيى الذهلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يوسف بن موسى الرازي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2279 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2279
فوائد:
➊ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت مال میں حصہ داروں کا زکوٰۃ کی کمی کی خاطر مال بانٹ لینا یا اکٹھا کر لینا ناجائز ہے۔
مثلاً اگر دو آدمیوں کی چالیس چالیس بکریاں ہیں، جن میں ہر مالک کی ایک ایک بکری زکوٰۃ ہے۔
لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت یہ دونوں مال اکٹھا کر لیں اور اسے شراکت کا رنگ دے کر زکوٰۃ کی مد میں کمی کرا لیں کہ 80 بکریوں پر بھی ایک بکری زکوٰۃ ہے، یہ عمل ناجائز ہے۔
اگر ان کا مال علیحدہ علیحدہ تھا، تو زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت بھی اسے علیحدہ ہی باور کرایا جائے۔
➋ پھر مال کو متفرق کرنے کی مثال یہ ہے کہ بکریوں کے دو حصہ داروں میں سے ہر ایک کی ایک سو پانچ، ایک سو پانچ بکریاں ہیں، حالانکہ ان کا مال مشترک ہے۔
یوں ان دونوں حصہ داروں کے مال کی زکوٰۃ تین بکریاں بنتی ہیں، لیکن مال کو الگ الگ باور کرانے سے مال کی زکوٰۃ دو بکریاں بنتی ہے۔
اس نقصان سے بچنے کے لیے مشترک مال کو الگ الگ کرنا ناجائز ہے۔
علیٰ ہذا القیاس باقی اجناس میں بھی یہ صورتیں ممنوع ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2279]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2279 in Urdu