صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1631. (76) بَابُ ذِكْرِ دَّلَائِلِ أُخْرَى عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ "- صَدَقَةَ الْفَرِيضَةِ دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ
اس بات کے مزید دلائل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”بیشک صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے“ سے آپ کی مراد فرض صدقہ (زکوٰۃ) مراد ہے۔ نفلی صدقہ مراد نہیں ہے
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”ہماری میراث تقسیم نہیں کی جائیگی، جو مال ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوگا۔ بلاشبہ آلِ محمد اس مال میں سے کھائیں گے۔“ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ کی آل آپ کے صدقہ میں سے کھائے گی کیونکہ آپ کا صدقہ فرض صدقہ (زکوٰۃ) نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2353]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، کتاب فرض الخمس، باب فرض الخمس، حديث: 3092، 3093 ـ صحيح مسلم، کتاب الجہاد، باب قول النبی ﷺ "لا نورث ما تركنا فهو صدقة"، حديث: 1759.»
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2353 in Urdu