🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1630. ‏(‏75‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الصَّدَقَةَ الْمُحَرَّمَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ الصَّدَقَةُ الْمَفْرُوضَةُ الَّتِي أَوْجَبَهَا اللَّهُ فِي أَمْوَالِ الْأَغْنِيَاءِ لِأَهْلِ سُهْمَانِ الصَّدَقَةِ، دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف فرضی زکوٰۃ حرام ہے جو اللہ تعالی نے مستحقین زکوٰۃ کے لئے مالداروں کے اموال میں واجب کی ہے
اور حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ کی روایت میں بھی (فرضی زکوٰۃ کی وضاحت ہے) جب وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بتایا تھا کہ یہ زکوٰۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے اور بلاشبہ اُنہوں نے فرضی زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں کو یہ جواب دینا کہ یہ صدقہ جس پر تم نے عامل مقرر کیے جانے کا مجھ سے سوال کیا ہے یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم تخريجه برقم: 2342»


صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2352 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2352
فوائد:
➊ (احادیثِ الباب دلیل ہیں کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقہ حرام ہے اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس حرمت میں شامل ہیں۔
➋ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد کون ہیں؟ اس بارے میں علما کا اختلاف ہے۔ راجح مذہب کے مطابق آلِ بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں۔ اس کی دلیل کتاب الجہاد کے آخر میں ابواب الخمس میں آئے گی۔
◈ شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کے ذوی القربیٰ کے حصہ میں انہی دو قبائل کو شامل کیا تھا اور قبائل قریش میں سے ان کے علاوہ کسی اور کو اس حصہ میں شریک نہ کیا اور مال غنیمت سے اس عطا کے عوض کے طور پر یہ عام زکوٰۃ و خیرات سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ [فتح الباري: 114/5]
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر صدقہ فطر، زکوٰۃ اور وہ صدقہ جو فقرا و مساکین پر خرچ کیا جاتا ہے، حرام ہے۔ اس کے علاوہ ”کل معروف صدقہ“ کے تحت ان پر نیکی کرنا، انہیں ہدیہ دینا اور خاوند کا بیوی، بیوی کا خاوند اور سربراہ کا اپنی اولاد پر خرچ کرنا صدقہ ہی ہے اور آلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس صدقہ سے محروم نہیں ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2352]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2352 in Urdu