🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1650. ‏(‏95‏)‏ باب الرخصة فى إعطاء الإمام المظاهر من الصدقة ما يكفر به عن ظهاره، إذا لم يكن واجدا للكفارة
جب ظہار کرنے والے شخص کے پاس کفّارے کے لئے مال موجود نہ ہو تو امام اسے کفّارہ ادا کرنے کے لئے زکوٰۃ کے مال سے دے سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2378
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ، فَلا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِعَ حَتَّى يُدْرِكَنِي الصُّبْحُ، فَبَيْنَا هِيَ ذَاتُ لَيْلَةٍ تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي، فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، فَقُلْتُ: انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلأُخْبِرُهُ، قَالُوا: لا، وَاللَّهِ لا نَذْهَبُ مَعَكَ نَخَافُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولُ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، قَالَ:" أَنْتَ بِذَاكَ؟" قَالَ: أَنَا بِذَاكَ، وَهَأَنَا ذَا فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، قَالَ: " اعْتِقْ رَقَبَةً"، فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي بِيَدِي، فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا، قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلا فِي الصِّيَامِ؟ قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ حَشَاءً مَا نَجِدُ عَشَاءً، قَالَ:" فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ، صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ، فَمُرْهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَاسْتَعِنْ بِسَائِرِهَا عَلَى عِيَالِكَ" , فَأَتَيْتُ قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَفْهَمْ عَنِ الدَّوْرَقِيِّ مَا بَعْدَهَا، وَقَالَ الآخَرُونَ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ، وَسُوءَ الرَّأْيِ، وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ، قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا إِلَيَّ، قَالَ: فَدَفَعُوهَا إِلَيَّ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَسَاءً
سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عورتوں سے جماع کرنے کی جتنی قوت ملی تھی کسی اور کو حاصل نہ تھی۔ جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، اس ڈرسے کہیں رمضان المبارک کی کسی رات اس سے ہمبستری نہ کرنے لگ جاؤں، پھر اس کام میں مسلسل لگا رہوں حتّیٰ کہ صبح ہوجائے اور میں فارغ ہی نہ ہوسکوں۔ پھر اس درمیان کہ ایک رات وہ میری خدمت کررہی تھی جب اس کے جسم کا کوئی حصّہ میرے سامنے کھل گیا (تو میں خود پر قابو نہ پاسکا، اس لئے) کود کراس پر سوار ہوگیا۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور اپنی کار گزاری انہیں بتائی۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ تم میرے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تاکہ میں آپ کو اپنی خبر بتا سکوں۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اللہ کی قسم ہم تمہارے ساتھ نہیں جائیںگے ہم تو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نہ نازل ہو جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جس کی عار و شرمندگی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے۔ اس لئے تم خود ہی جاؤ اور جو تمہارے جی میں آئے کر گزرو۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کارگزاری بتادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تم نے ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے عرض کی کہ جی ہاں، ایسے ہی کیا ہے اور میں اب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ مجھ پر اللہ کا حُکم نافذ کریں، میں بڑے صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے سزا برداشت کروںگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کرو۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارکر کہا کہ جس ذات نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے، میں اس گردن کے سوا کسی کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میں نے اس غلطی کا ارتکاب رمضان ہی میں تو کیا ہے۔ (مزید روزے کیسے رکھ سکوںگا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ مساکین کا کھانا دو۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ہم نے آج رات بھوکے گزاری ہے ہمارے پاس رات کا کھانا بھی نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ بنی زریق کی زکوٰۃ کے تحصیلدار کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ بنی زریق کی زکوٰۃ تمہیں دے دے۔ اس میں سے ایک وسق ساٹھ مساکین کو کھلادو اور باقی سارامال اپنے گھر والوں پر خرچ کرلو۔ پھر میں اپنی قوم کے پاس آیا تو میں نے کہا کہ میں نے تمہارے اندر تنگ دلی اور تنگ نظری پائی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد دورقی کی روایت کو میں سمجھ نہیں سکا۔ دیگر راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ میں نے تمہارے پاس تنگ دلی اور بری رائے کو پایا ہے جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فراخی اور برکت پائی ہے۔ آپ نے مجھے تمہاری زکوٰۃ وصول کرنے کا حُکم دیا ہے لہٰذا تم وہ میرے حوالے کردو۔ فرماتے ہیں کہ تو اُنہوں نے اپنی زکوٰۃ میرے حوالے کردی۔ بعض راویوں نے عشاء (رات کا کھانا) کی بجائے حساء (شوربہ) کا لفظ روایت کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2378]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 804، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2378، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2831، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2213، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1198، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2062، 2064، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15356، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3854، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16681»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمان بن صخر الأنصاريصحابي
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← سلمان بن صخر الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو العامري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو العامري ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن عمرو العامري
صدوق مدلس
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن الخليل البغدادي، أبو علي، أبو جعفر
Newأحمد بن الخليل البغدادي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة
👤←👥أحمد بن سعيد الدارمي، أبو جعفر
Newأحمد بن سعيد الدارمي ← أحمد بن الخليل البغدادي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← أحمد بن سعيد الدارمي
ثقة حافظ جليل
👤←👥الحسن بن محمد الزعفراني، أبو علي
Newالحسن بن محمد الزعفراني ← محمد بن يحيى الذهلي
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← الحسن بن محمد الزعفراني
ثقة
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2378 in Urdu