صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1649. (94) باب إعطاء الإمام الحاج إبل الصدقة ليحجوا عليها
امام حاجی کو سواری کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے اونٹ عطا کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 2377
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي لاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ؟ فَقَالَ: " مَا مِنْ بَعِيرٍ، إِلا عَلَى ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِذَا رَكَبْتُوهَا كَمَا أَمَرَكُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لأَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ"
سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حج کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے چند کمزور اونٹ سواری کے لئے دیئے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، ہمارے خیال میں یہ اونٹ سواری کے قابل نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے لہٰذا جب تم سوار ہونے لگو تو بسم اللہ پڑھ لو جیسا کہ اُس نے تمہیں حُکم دیا ہے۔ پھر تم ان سے اپنی خوب خدمت لو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سواری عطا کرتا ہے (اور ان جانوروں کو تمہارا مطیع کرتا ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2377، 2543، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1630، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10428، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18221، 18222، والطبراني فى(الكبير) برقم: 837، 838»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2377 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2377
فوائد:
➊ حجاج کرام کو صدقات و زکاۃ کے مال سے سواریاں مہیا کرنا جائز ہے۔
➋ اور یہ بھی فی سبیل اللہ کی مد میں داخل ہے، لہذا حجاج کرام پر زکاۃ کا مال خرچ کرنا اور ان کی پریشانیوں کا ازالہ کرنا جائز ہے۔
➊ حجاج کرام کو صدقات و زکاۃ کے مال سے سواریاں مہیا کرنا جائز ہے۔
➋ اور یہ بھی فی سبیل اللہ کی مد میں داخل ہے، لہذا حجاج کرام پر زکاۃ کا مال خرچ کرنا اور ان کی پریشانیوں کا ازالہ کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2377]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2377 in Urdu
عمر بن الحكم الحجازي ← ابن لاس الخزاعي