صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1659. (104) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِهَذِهِ الصَّدَقَةِ- الَّتِي أَعْلَمَ أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لِلْغَنِيِّ وَلَا لِلسَّوِيِّ- صَدَقَةَ الْفَرِيضَةِ دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالدار اور تندرست آدمی کے لئے جس صدقے کو حرام قرار دیا ہے وہ فرض زکوٰۃ ہے۔ اس سے مراد نفلی صدقہ و خیرات نہیں ہے۔
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بعد بیان کر دیا تھا کہ بیشک ہم آل محمد کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم تخريجه برقم: 2353»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2388 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2388
فوائد:
➊ صاحبِ ثروت لوگوں کے لیے صدقات و زکاۃ حرام ہے، البتہ مالدار شخص کے لیے صدقات و زکاۃ استعمال کرنے کی کچھ صورتیں مستثنیٰ ہیں، جن کی وضاحت [حدیث: 2378] میں بیان ہوئی ہے۔
➋ کامل الاعضاء اور صحیح البدن شخص کا بھیک مانگنا اور زکاۃ و صدقات لینا حرام ہے، بلکہ ایسا شخص محنت مزدوری کر کے اپنی گزران کا بندوبست کرے۔
➊ صاحبِ ثروت لوگوں کے لیے صدقات و زکاۃ حرام ہے، البتہ مالدار شخص کے لیے صدقات و زکاۃ استعمال کرنے کی کچھ صورتیں مستثنیٰ ہیں، جن کی وضاحت [حدیث: 2378] میں بیان ہوئی ہے۔
➋ کامل الاعضاء اور صحیح البدن شخص کا بھیک مانگنا اور زکاۃ و صدقات لینا حرام ہے، بلکہ ایسا شخص محنت مزدوری کر کے اپنی گزران کا بندوبست کرے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2388]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2388 in Urdu