الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1660. (105) باب الرخصة فى إعطاء الإمام من الصدقة من يذكر حاجة وفاقة لا يعلم الإمام منه خلافه من غير مسألة عن حاله، أهو فقير محتاج أم لا؟
جو شخص اپنے فقر و فاقہ کا اظہار کرے جبکہ امام کو اس کے مالدار ہونے کا علم نہ ہو تو امام اس کی حالت کے متعلق سوال کئے بغیر اسے زکوٰۃ سے مال دے سکتا ہے
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ آج وہ سب گھر والے بھوکے سوئے ہیں ان کے پاس رات کا کھانا بھی نہیں تھا۔ اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنی زریق کی زکوٰۃ کے تحصیلدار کے پاس بھیجا تاکہ وہ زریق کی زکوٰۃ لے لیں۔ اس روایت میں یہ ذکر موجود نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کسی دوسرے شخص سے تحقیق کی تھی، اس حدیث میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے کہ پورے قبیلے کی زکوٰۃ ایک ہی شخص کو دے دینا جائز ہے امام کے لئے واجب نہیں کہ وہ ہر شخص کی زکوٰۃ تقسیم کرے۔ اور نہ یہ واجب ہے کہ ہر شخص کی زکوٰۃ مستحقین زکوٰۃ کی تمام موجود اقسام میں تقسیم کرے۔ کیونکہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تھا کہ وہ بنی زریق کے تما م افراد کی زکوٰۃ ان کے تحصیلدار سے لے لیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2389]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔