صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1668. (113) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ صَدَقَةِ الْفِطْرِ يَجِبُ أَدَاؤُهَا عَنِ الْمَمَالِيكِ الْمُسْلِمِينَ دُونَ الْمُشْرِكِينَ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مالک صرف اپنے مسلمان غلاموں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: Q2398
خِلَافَ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهَا وَاجِبَةٌ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبِيدِهِ الْمُشْرِكِينَ
مشرک غلاموں کی طرف سے نہیں ان علماء کے قول کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ مسلمان آدمی اپنے مشرک غلاموں کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کرے گا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: Q2398]
حدیث نمبر: 2398
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ فِي رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدِيثُ مَالِكٍ، وَابْنِ شَوْذَبٍ، وَكَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان پر خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا سب پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو رمضان المبارک میں صدقہ فطر فرض کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مالک، ابن شوذب اور کثیر بن عبداللہ کی اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت اسی مسئلے کے متعلق ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1503، 1504، 1507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 984، ومالك فى (الموطأ) برقم: 989، وابن الجارود فى "المنتقى"، 392، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2392، 2393، 2395، 2397، 2398، 2399، 2400، 2403، 2404، 2405، 2406، 2409، 2411، 2416، 2421، 2422، 2423، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3299، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2599، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1494، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 675، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1825، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7764، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2069، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4572»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥الضحاك بن عثمان الحزامي، أبو عثمان الضحاك بن عثمان الحزامي ← نافع مولى ابن عمر | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل محمد بن أبي فديك الديلي ← الضحاك بن عثمان الحزامي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن المغيرة القرشي، أبو سلمة يحيى بن المغيرة القرشي ← محمد بن أبي فديك الديلي | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2398 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2398
فوائد:
➊ غلام اور باندی پر فرض فطرانہ کی رقم مالک پر لازم ہے۔ غلام اور باندی اپنا فطرانہ ادا نہیں کریں گے، بلکہ ان کا فطرانہ ان کے مالک پر فرض ہے۔ اس کی صریح دلیل آئندہ حدیث ہے۔
❀ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ اِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ.»
”غلام میں صدقہ فطر کے سوا کوئی زکوٰۃ نہیں۔“ [صحیح مسلم: 982، سنن أبي داؤد: 1594]
◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”یہ حدیث صریح نص ہے کہ غلام کا فطرانہ اس کے آقا پر واجب ہے، خواہ غلام خدمت کے لیے ہو یا تجارت کے لیے۔ شافعی، مالک اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔“ [شرح النووي: 55/7]
➋ صدقہ فطر صرف مسلم شخص پر فرض ہے۔ اور کافر غلام، کافر بیوی، کافر اولاد اور کافر والدین کی طرف سے مسلمان پر صدقہ فطر لازم نہیں، اگرچہ ان کا نفقہ اس کے ذمہ لازم ہے۔ مالک، شافعی اور جمہور علماء اسی موقف کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 159/7]
◈ اور شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صدقہ فطر کے وجوب کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے اور کافر پر صدقہ فطر واجب نہیں۔ [نیل الأوطار: 194/4]
➊ غلام اور باندی پر فرض فطرانہ کی رقم مالک پر لازم ہے۔ غلام اور باندی اپنا فطرانہ ادا نہیں کریں گے، بلکہ ان کا فطرانہ ان کے مالک پر فرض ہے۔ اس کی صریح دلیل آئندہ حدیث ہے۔
❀ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ اِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ.»
”غلام میں صدقہ فطر کے سوا کوئی زکوٰۃ نہیں۔“ [صحیح مسلم: 982، سنن أبي داؤد: 1594]
◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”یہ حدیث صریح نص ہے کہ غلام کا فطرانہ اس کے آقا پر واجب ہے، خواہ غلام خدمت کے لیے ہو یا تجارت کے لیے۔ شافعی، مالک اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔“ [شرح النووي: 55/7]
➋ صدقہ فطر صرف مسلم شخص پر فرض ہے۔ اور کافر غلام، کافر بیوی، کافر اولاد اور کافر والدین کی طرف سے مسلمان پر صدقہ فطر لازم نہیں، اگرچہ ان کا نفقہ اس کے ذمہ لازم ہے۔ مالک، شافعی اور جمہور علماء اسی موقف کے قائل ہیں۔ [شرح النووي: 159/7]
◈ اور شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صدقہ فطر کے وجوب کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے اور کافر پر صدقہ فطر واجب نہیں۔ [نیل الأوطار: 194/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2398]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2398 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي