🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
189. ‏(‏188‏)‏ باب تخليل أصول شعر الرأس بالماء، قبل إفراغ الماء على الرأس، وحثي الماء على الرأس بعد التخليل حثيات ثلاث‏.‏
سر پر پانی ڈالنے سے پہلے، سر کے بالوں کی جڑوں کا پانی سے خلال کرنا اور خلال کرنے کے بعد سر پر تین چُلّو ڈالنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 242
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، يَصُبُّ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَيُفْرِغُ عَلَيْهَا، فَيَغْسِلُهَا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ , وَيَتَوَضَّأُ كوُضُوئِهِ لِلصَّلاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ كَفَّهُ فِي الإِنَاءِ فَيَقُولُ بِيَدِهِ فِي شَعْرِهِ هَكَذَا، يُخَلِّلُهُ بِيَدِهِ، حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ مَسَّ الْمَاءُ بَشَرَتَهُ حَثَى الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ، وَأَفْضَلَ فِي الإِنَاءِ فَضْلا، يَصُبُّهُ عَلَيْهِ بَعْدَمَا يَفْرُغُ"
سیدناعائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتےبرتن سےاپنےدائیں ہاتھ پرپانی اُنڈیلتے، اُس پرپانی ڈال کراُسےدھوتے،پھراپنےبائیں ہاتھ پرپانی ڈالتےتوشرم گاہ دھوتے،اورنمازکےلیےاپنے وضو جیسا وضو کرتے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالتے تو (پانی لیکر) اپنے ہاتھ سے اپنے بالوں میں اس طرح کرتے، اور اپنے ہاتھ سے اُن کا خلال کرتے، حتیٰ کہ جب محسوس کرتے کہ پانی آپ کی جلد تک پہنچ گیا ہے تو اپنے سر پر تین چُلّو ڈالتے اور کچھ پانی برتن میں بچا لیتے جسے فارغ ہو کر اپنے اوپر ڈال لیتے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 248، 251، 258، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 316، ومالك فى (الموطأ) برقم: 138، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 242، 245، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1191، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 227، وأبو داود فى (سننه) برقم: 240، 242، والترمذي فى (جامعه) برقم: 104، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 828، والدارقطني فى (سننه) برقم: 402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24895»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 242 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 242
فوائد:
➊ شافعیہ کہتے ہیں: جنابت سے غسل کا کامل طریقہ یہ ہے کہ غسل کرنے والا برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے قبل اولاً انہیں تین مرتبہ دھوئے۔
پھر شرمگاہ اور بدن پر لگی گندگی دھوئے، بعد ازاں نماز والا مکمل وضو کرے۔
پھر اپنی تمام انگلیاں پانی میں داخل کر کے لپ بھر پانی لے کر اس سے سر اور داڑھی کے بالوں کا خلال کرے۔
بعد ازاں اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالے اور بدن پر یعنی زیرِ بغل، کانوں کے اندرونی حصوں، ناف میں، پاؤں کے اندرونی حصوں، پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اور پیٹ کی سلوٹوں وغیرہ تک بطور خاص پانی پہنچائے۔
پھر اپنے سر پر تین لپ پانی بہائے اور بعد میں تمام جسم پر تین مرتبہ پانی بہائے اور ہر مرتبہ جہاں تک ہاتھ پہنچتے ہوں جسم کو ہاتھوں سے ملے۔
نیز اگر کوئی شخص نہر یا تالاب پر غسل کرے تو وہ اس میں تین غوطے لگائے اور تمام جلد اور گھنے اور ہلکے بالوں تک پانی پہنچائے۔
اور دورانِ غسل ظاہر و باطن بالوں اور بدن کی جڑ کو پانی سے تر کرے اور بدن کے دائیں اور بلند حصوں کو مقدم رکھنا اور قبلہ کی طرف منہ کر کے غسل کرنا مستحب عمل ہے۔
وضو سے فراغت کے بعد «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» کہے۔
اور غسل کے آغاز میں غسل کی نیت کرے اور غسل سے فراغت تک کی نیت کرنا بہتر عمل ہے۔
مذکورہ طریقہ کامل غسل کا طریقہ ہے اور غسل کے واجبات میں سے شروع غسل میں غسل کی نیت اور تمام جسم کی جلد اور بالوں تک پانی پہنچانا ہے۔
اور غسل کی شرط یہ ہے کہ غسل سے جسم نجاست سے پاک ہو جائے۔ [شرح النووي: 3/ 227-228]
➋ غسلِ جنابت میں وضو کے وجوب کے صرف داؤد ظاہری قائل ہیں۔
باقی علماء کے نزدیک غسلِ جنابت سے قبل وضو کرنا مسنون عمل ہے اور اگر غسل کرنے والا وضو کے بغیر تمام بدن پر پانی بہائے تو اس کا غسل صحیح ہوگا۔
لیکن غسل سے پہلے وضو کرنا افضل عمل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 242]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 242 in Urdu