صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
190. (189) باب اكتفاء صاحب الجمة والشعر الكثير بإفراغ ثلاث حثيات من الماء على الرأس فى غسل الجنابة.
غسل جنابت میں گھنے اور کندھوں تک زلفوں والے شخص کے لیے سر پر تین چلو پانی ڈالنا کافی ہے
حدیث نمبر: 243
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : سَأَلَنِي ابْنُ عَمِّكَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقُلْتُ" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثًا"، فَقَالَ: إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ، فَقُلْتُ:" كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ" ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حضرت جعفر رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا مجھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کے چچا زاد بھائی حسن بن محمد نے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو ميں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تين (چُلّو) ڈالا کرتے تھے۔ تو اُس نے کہا کہ ميرے بال بہت زيادہ ہيں۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ اور خوبصورت تھے۔ یہ یحییٰ بن سعید کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 252، 255، 256، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 328، ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 117، 243، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 579، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 230، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 228، وأبو داود فى (سننه) برقم: 93، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 269، 577، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 847، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14329»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 243 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 243
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ غسلِ جنابت کی صورت میں سر پر تین لپ پانی بہانا مستحب فعل ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 245/4]
خواہ غسل کرنے والے کے بال زیادہ ہوں یا کم۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ غسلِ جنابت کی صورت میں سر پر تین لپ پانی بہانا مستحب فعل ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 245/4]
خواہ غسل کرنے والے کے بال زیادہ ہوں یا کم۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 243]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 243 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري