🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1684. ‏(‏129‏)‏ باب الدليل على أن الصلاة التى أمر النبى صلى الله عليه وسلم بأداء صدقة الفطر قبل الخروج إليها- صلاة العيد لا غيرها
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نماز کے لئے جانے سے پہلے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حُکم دیا ہے، وہ نماز عید ہے کوئی اور نماز مراد نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حُکم دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1503، 1504، 1507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 984، ومالك فى (الموطأ) برقم: 989، وابن الجارود فى "المنتقى"، 392، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2392، 2393، 2395، 2397، 2398، 2399، 2400، 2403، 2404، 2405، 2406، 2409، 2411، 2416، 2421، 2422، 2423، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3299، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2599، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1494، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 675، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1825، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7764، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2069، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4572»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← موسى بن عقبة القرشي
وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي
ثقة حافظ
👤←👥بحر بن نصر الخولاني، أبو عبد الله
Newبحر بن نصر الخولاني ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← بحر بن نصر الخولاني
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2423 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2423
فوائد:
➊ فطرانہ ادا کرنے کا آخری وقت نماز عید سے پہلے پہلے ہے۔ لہذا فطرانہ کی ادائیگی نماز عید ادا کرنے سے قبل ضروری ہے ورنہ وہ فطرانہ جو نماز عید کے بعد ادا کیا جائے، وہ ادا نہیں ہوگا۔
➋ عید الفطر سے ایک یا دو دن قبل فطرانہ ادا کرنا جائز ہے۔ یہ اس مقصد کے لیے ہے کہ فقراء و مساکین بھی فطرانہ سے ملنے والی رقم سے عید کے انتظامات کر سکیں۔ صدقہ فطر (فطرانہ) کی ادائیگی غلہ (گندم، جَو، کھجور، کشمش) کے بجائے نقد رقم کی صورت میں کرنے کا جواز شریعت مطہرہ، بالخصوص فقہ حنفی میں پوری طرح ثابت ہے۔ اس کا بنیادی مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں کی عید کے دن حاجت روائی کرنا ہے۔
➌ نقد رقم سے فطرانہ ادا کرنے کے دلائل:
صدقہ فطر کا بنیادی مقصد (مقصدِ شریعت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر کرنے کا ایک اہم مقصد یہ بیان فرمایا ہے:
«أَغْنُوهُمْ عَنْ طَوَافِ هَذَا الْيَوْمِ»
ان (مساکین) کو آج (عید) کے دن مانگنے سے بے نیاز کر دو۔ [سنن الدارقطني: 3/214]
غریبوں کو بے نیاز کرنے کا مقصد جس طرح غلہ دینے سے پورا ہوتا ہے، آج کے دور میں نقد رقم دینے سے یہ مقصد زیادہ بہتر اور آسانی سے پورا ہوتا ہے، کیونکہ غریب اپنی ضرورت کے مطابق اس رقم سے کپڑے، دوائی یا دیگر اشیاء خرید سکتا ہے۔
➍ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا عمل (قیمت کی ادائیگی کا اصول) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا، تو انہوں نے اہل یمن سے زکوٰۃ کے حوالے سے فرمایا:
«ائْتُونِي بِعَرْضٍ ثِيَابٍ خَمِيصٍ أَوْ لَبِيسٍ فِي الصَّدَقَةِ مَكَانَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ»
تم لوگ میرے پاس جَو اور مکئی (غلہ) کے بجائے کپڑے لے آؤ، یہ تمہارے لیے بھی زیادہ آسان ہے اور مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے بھی زیادہ بہتر (مفید) ہے۔ [صحيح البخاري: 3/312]
یہ حدیث اس بات کی صریح دلیل ہے کہ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ میں اصل چیز (غلہ) کے بجائے اس کے مساوی قیمت دینا جائز ہے، خصوصاً جب اس میں دینے والے کے لیے آسانی اور فقیر کا زیادہ فائدہ ہو۔
➎ تابعین اور سلف صالحین کا تعامل:
صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں دراہم (نقد رقم) کے ذریعے فطرانہ ادا کرنے کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا قول:
مصنف ابن ابی شیبہ میں مروی ہے کہ مشہور تابعی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَا بَأْسَ أَنْ تُعْطِيَ الدَّرَاهِمَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ»
صدقہ فطر میں دراہم (نقد رقم) دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن أبي شيبة: 10371]
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا فرمان:
خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے باقاعدہ اپنے گورنروں کو تحریری حکم بھیجا کہ فطرانہ میں رقم وصول کی جائے:
«فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ نِصْفُ صَاعٍ عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ أَوْ قِيمَتُهُ نِصْفُ دِرْهَمٍ»
صدقہ فطر ہر انسان کی طرف سے آدھا صاع (گندم) ہے یا اس کی قیمت آدھا درہم ہے۔ [مصنف ابن أبي شيبة: 10370]
حضرت ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ کی گواہی:
◈ امام ابو اسحاق سبیعی فرماتے ہیں: میں نے لوگوں (یعنی صحابہ و تابعین) کو اس حال میں پایا کہ وہ رمضان کے صدقے میں طعام (غلے) کی قیمت کے طور پر دراہم دیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن أبي شيبة: 10369]
خلاصہ کلام:
احادیث مبارکہ، مقاصدِ شریعت اور صحابہ و تابعین کے عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صدقہ فطر میں غلے کے بجائے اس کی قیمت نقد رقم کی صورت میں دینا نہ صرف جائز ہے، بلکہ موجودہ دور میں فقراء کے حق میں زیادہ بہتر (انفع للفقراء) ہے تاکہ وہ اپنی مختلف ضروریات (راشن، لباس، علاج وغیرہ) باآسانی اور اپنی مرضی سے پوری کر سکیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2423]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2423 in Urdu