صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1685. (130) باب الرخصة فى تأخير الإمام قسم صدقة الفطر عن يوم الفطر إذا أديت إليه
جب صدقہ فطر امام کے پاس جمع ہو جائے تو امام اس کی تقسیم کو عید الفطر کے دن سے مؤخر کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الْجَامِعِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ أَحْفَظَ زَكَاةَ رَمَضَانَ، فَأَتَانِي آتٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ: لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ اللَّيْلَةَ؟" أَوْ قَالَ: الْبَارِحَةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَكَى حَاجَةً فَخَلَّيْتُهُ وَزَعَمَ أَنَّهُ لا يَعُودُ، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ، وَسَيَعُودُ"، قَالَ: فَرَصَدْتُهُ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَقُلْتُ: لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَى حَاجَةً، فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ اللَّيْلَةَ أَوِ الْبَارِحَةَ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَكَى حَاجَةً فَخَلَّيْتُهُ، وَزَعَمَ أَنَّهُ لا يَعُودُ، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ"، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ: لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْنِي حَتَّى أُعَلِّمَكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ، قَالَ: وَكَانُوا أَحْرَصَ شَيْءٍ عَلَى الْخَيْرِ، قَالَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ، فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255، فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظًا، وَلا يَقْرَبُكَ الشَّيْطَانُ، حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟" فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: صَدَقَكَ وَإِنَّهُ لَكَاذِبٌ، تَدْرِي مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاثِ لَيَالٍ، ذَاكَ الشَّيْطَانُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ رمضان کی حفاظت کرنے کا حُکم دیا۔ تو آدھی رات کے وقت میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اُس نے اناج لینا شروع کردیا۔ تو میں نے اُسے پکڑ لیا اور میں نے کہا کہ میں تجھے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروںگا۔ تو اُس نے عرض کی کہ مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں حاجت مند ہوں۔ تو میں نے (اس پر ترس کھا کر) چھوڑ دیا۔ (صبح ہوئی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد فرمایا: ”ابوہریرہ، آج رات یا گزشتہ رات تمہارے قیدی کا کیا بنا؟“ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اُس نے حاجت مندی کا ذکر کیا اور آئندہ چوری نہ کرنے کا وعدہ کیا تو میں نے اُسے آزاد کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، اس نے تمہارے ساتھ جھوٹ بولا ہے اور وہ دوبارہ آئیگا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو (اگلی رات) میں اُس کی گھات میں بیٹھ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے مجھے یقین تھا کہ وہ ضرور آئے گا چنانچہ وہ آیا اور اُس نے غلّہ اُٹھانا شروع کردیا۔ (میں نے اُسے گرفتار کیا) اور اُس سے کہا کہ میں تمہیں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کروںگا۔ تو اُس نے پھر اپنی تنگدستی اور حاجتمندی کا رونا رویا تو میں نے (ترس کھا کر) اُسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارے رات کے قیدی کا کیا بنا؟“ میں نے کہا کہ اللہ کے رسول، اُس نے اپنے فقر و فاقہ کا ذکر کیا اور آئندہ چوری نہ کر نے کا وعدہ کیا تو میں نے اُسے آزاد کردیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، اس نے تمہارے ساتھ جھوٹ بولا ہے اور وہ دوبارہ آئیگا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئیگا۔ لہٰذا وہ آیا اور اُس نے اناج اُٹھانا شروع کردیا، اور میں نے اُسے گرفتار کرلیا میں نے اُس سے کہا، اب تو میں ضرور تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروںگا۔ تو اُس نے کہا کہ مجھے چھوڑدو میں تمہیں چند ایسے کلمات سکھا دیتا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہیں بہت نفع دیگا۔ اور صحابہ کرام تو خیر و بھلائی کے بڑے ہی حریص تھے۔ (لہٰذا اُسے چھوڑ دیا) تو اُس نے کہا کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو آية الكرسي « اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [ سورة البقرة: 255 ] پڑھ لیا کرو تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ ساری رات تمھاری حفاظت کرتا رہیگا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہیں آئیگا۔ تو میں نے اُسے آزاد کردیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”اے ابوہریرہ،“ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تمہیں سچ بتایا ہے حالانکہ وہ خود جھوٹا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم تین راتوں سے کس کے ساتھ ہم کلام رہے ہو؟ وہ شیطان تھا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2311، 3275، 5010، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2424، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10729»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل عوف بن أبي جميلة الأعرابي ← محمد بن سيرين الأنصاري | صدوق رمي بالقدر والتشيع | |
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو عمرو عثمان بن عمر العبدي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥هلال بن بشر المزني، أبو الحسن هلال بن بشر المزني ← عثمان بن عمر العبدي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2424 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2424
فوائد:
➊ فطرانہ کی رقم ایک جگہ جمع کرنا، پھر اسے فقراء و مساکین میں تقسیم کرنا مسنون و مستحب فعل ہے۔
➋ فطرانہ قبل از نماز عید تقسیم کرنا لازم نہیں بلکہ بعد از نماز عید تقسیم کرنا جائز و مباح ہے۔ لہذا امام و حاکم فطرانہ جمع کرنے کے بعد نماز عید سے پہلے یا بعد میں جب مناسب سمجھے تقسیم کر سکتا ہے۔ لیکن عامۃ الناس کے لیے نماز عید سے قبل فطرانہ ادا کرنا لازم ہے۔
➊ فطرانہ کی رقم ایک جگہ جمع کرنا، پھر اسے فقراء و مساکین میں تقسیم کرنا مسنون و مستحب فعل ہے۔
➋ فطرانہ قبل از نماز عید تقسیم کرنا لازم نہیں بلکہ بعد از نماز عید تقسیم کرنا جائز و مباح ہے۔ لہذا امام و حاکم فطرانہ جمع کرنے کے بعد نماز عید سے پہلے یا بعد میں جب مناسب سمجھے تقسیم کر سکتا ہے۔ لیکن عامۃ الناس کے لیے نماز عید سے قبل فطرانہ ادا کرنا لازم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2424]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2424 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي