صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1688. (133) باب إظلال الصدقة صاحبها يوم القيامة إلى الفراغ من الحكم بين العباد
قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک صدقہ، صدقہ کرنے والے پر سایہ فگن رہے گا
حدیث نمبر: 2432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَوَّلُ أَهْلِ مِصْرَ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَمَا رَأَيْتُهُ دَاخِلا الْمَسْجِدَ قَطُّ، إِلا وَفِي كُمِّهِ صَدَقَةٌ، إِمَّا فُلُوسٌ، وَإِمَّا خُبْزٌ، وَإِمَّا قَمْحٌ حَتَّى رُبَّمَا رَأَيْتُ الْبَصَلَ يَحْمِلُهُ، قَالَ: فَأَقُولُ يَا أَبَا الْخَيْرِ، إِنَّ هَذَا يُنْتِنُ ثِيَابَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا ابْنَ حَبِيبٍ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِي الْبَيْتِ شَيْئًا أَتَصَدَّقُ بِهِ غَيْرَهُ، إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ"
جناب یزید بن ابی حبیب مرثد بن عبداللہ مزنی رحمه الله سے بیان کرتے ہیں کہ وہ اہل مصر میں سے سب سے پہلے مسجد میں جاتے ہیں۔ اور میں نے جب بھی انہیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو ان کی آستین میں صدقہ کرنے کے لئے نقد رقم یا روٹی یا گندم ضرور ہوتی حتّیٰ کہ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ وہ صدقے کے لئے پیاز ہی لے آتے تو میں کہتا کہ اے ابوالخیر، پیاز تمہارے کپڑے بدبودار کردیتا ہے۔ تو وہ جواب دیتے کہ اے ابن حبیب، میرے گھر میں صدقہ دینے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز موجود ہی نہ تھی (اس لئے یہی لے آیا ہوں) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا کیا ہوا صدقہ ہو گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2432]
تخریج الحدیث: «اسناد حسن صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2431، 2432، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3310، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1522، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7845، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17606»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2432 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2432
فوائد:
ان احادیث میں صدقہ کی فضیلت و ترغیب کا بیان ہے کہ حتی الوسع صدقہ و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
ایک تو دنیا میں فی سبیل اللہ خرچ کیا ہوا مال دنیا ہی میں بڑھا دیا جاتا ہے، پھر روزِ قیامت سائبان کی شکل میں یہ صاحبِ صدقہ پر سایہ فگن ہوگا اور روزِ قیامت کی جھلسا دینے والی تپش سے اسے محفوظ بھی رکھے گا۔
ان احادیث میں صدقہ کی فضیلت و ترغیب کا بیان ہے کہ حتی الوسع صدقہ و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
ایک تو دنیا میں فی سبیل اللہ خرچ کیا ہوا مال دنیا ہی میں بڑھا دیا جاتا ہے، پھر روزِ قیامت سائبان کی شکل میں یہ صاحبِ صدقہ پر سایہ فگن ہوگا اور روزِ قیامت کی جھلسا دینے والی تپش سے اسے محفوظ بھی رکھے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2432]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2432 in Urdu
مرثد بن عبد الله اليزني ← اسم مبهم