صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1693. (138) باب فضل الصدقة عن ظهر غنى يفضل عمن يعول المتصدق
اہل و عیال پر خرچ کرنے کے بعد بچ جانے والے مال کا صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2440
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكُ بْنُ نَضْلَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الأَيْدِي ثَلاثَةٌ: فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى، فَأَعْطِ الْفَضْلَ، وَلا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِكِ"
سیدنا مالک بن نضالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ نہایت بلند و بالا ہے۔ اس کے نیچے صدقہ کرنے والے کا ہاتھ ہے اور ما نگنے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہے۔ لہٰذا جو مال (اہل وعیال پر خرچ کرنے کے بعد) بچ جائے وہ صدقہ کردو اور اپنے نفس کے پیچھے نہ لگو (جب وہ تمہیں صدقہ کرنے سے روکے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2440]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2440، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3362، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1488، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7980، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16135، 17505»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2440 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2440
فوائد:
➊ صدقہ کی بہترین اور افضل صورت یہ ہے کہ صدقہ کرنے والا اپنی ضروریات و اخراجات سے اضافی مال صدقہ کرے۔
➋ تمام یا ضروریات کا اکثر مال صدقہ کرنے سے خود ہی محتاج و مفلس ہونا پسندیدہ عمل نہیں۔
➊ صدقہ کی بہترین اور افضل صورت یہ ہے کہ صدقہ کرنے والا اپنی ضروریات و اخراجات سے اضافی مال صدقہ کرے۔
➋ تمام یا ضروریات کا اکثر مال صدقہ کرنے سے خود ہی محتاج و مفلس ہونا پسندیدہ عمل نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2440]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2440 in Urdu
عوف بن مالك الجشمي ← مالك بن نضلة الجشمي