الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1696. (141) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما فضل صدقة المقل إذا كان فضلا عمن يعول،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم مال والے شخص کے صدقے کو اس وقت افضل قرار دیا ہے جبکہ وہ مال اس کے اہل وعیال کی ضروریات سے زیادہ ہو۔
حدیث نمبر: 2445
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهُنَا وَهَهُنَا"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص محتاج ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے۔ اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر مزید مال بچ جائے تو اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زیادہ موجود ہو تو پھر ادھر اُدھر ضرورتمندوں پر خرچ کردے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2445]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري