صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1696. (141) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا فَضَّلَ صَدَقَةَ الْمُقِلِّ إِذَا كَانَ فَضْلًا عَمَّنْ يَعُولُ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم مال والے شخص کے صدقے کو اس وقت افضل قرار دیا ہے جبکہ وہ مال اس کے اہل وعیال کی ضروریات سے زیادہ ہو۔
حدیث نمبر: 2445
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهُنَا وَهَهُنَا"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص محتاج ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے۔ اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر مزید مال بچ جائے تو اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زیادہ موجود ہو تو پھر ادھر اُدھر ضرورتمندوں پر خرچ کردے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2445]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1056، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، 2452، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2545، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2445 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2445
فوائد:
اس حدیث میں صدقہ و خیرات کے آداب بیان ہوئے ہیں کہ اپنے مال کا سب سے زیادہ حق انسان خود ہے، پھر کچھ مال بچے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر اضافی مال عزیز و اقارب پر اور اس کے بعد بھی گنجائش ہو تو دیگر فقراء و مساکین پر خرچ کیا جائے۔
صدقہ و خیرات میں یہ ترتیب ملحوظ رکھنا مستحب ہے۔
اس حدیث میں صدقہ و خیرات کے آداب بیان ہوئے ہیں کہ اپنے مال کا سب سے زیادہ حق انسان خود ہے، پھر کچھ مال بچے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر اضافی مال عزیز و اقارب پر اور اس کے بعد بھی گنجائش ہو تو دیگر فقراء و مساکین پر خرچ کیا جائے۔
صدقہ و خیرات میں یہ ترتیب ملحوظ رکھنا مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2445]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2445 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري