صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1700. (145) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الصَّدَقَةِ عَلَى مَنْ يَمُونُهُ مُتَطَوِّعًا
جس شخص کو صدقے کی چیز برضا و رغبت مہیا کی گئی ہو اس کے لئے وہ صدقہ استعمال کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 2449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِطَعَامٍ لَيْسَ مَعَهُ لَحْمٌ، فَقَالَ:" أَلَمْ أَرَ لَكُمْ بُرْمَةً؟"، قُلْتُ: بَلَى، ذَاكَ لَحْمٌ تَصَدَّقَ بِهِ عَلَيَّ بَرِيرَةُ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِنْهَا هَدِيَّةٌ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا جس کے ساتھ گوشت نہیں تھا۔ تو آپ نے پوچھا: ”کیا میں نے تمھاری ہنڈیا نہیں دیکھی تھی؟ (جس میں گوشت پک رہا تھا)“ میں نے عرض کیا کہ با لکل دیکھی تھی لیکن وہ گوشت تو سیدنا بریرہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔ اور ہمارے لئے بریرہ کی طرف سے ہدیہ ہے (اس لئے لاؤ۔ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2449]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2073، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1154، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، 1259، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2449 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2449
فوائد:
➊ اگر فقیر و مسکین صدقہ و خیرات کا مال غنی اور مال دار شخص کو ہدیہ کر دے، تو غنی شخص کے لیے ایسا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے اور ایسے ہدیہ کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
➊ اگر فقیر و مسکین صدقہ و خیرات کا مال غنی اور مال دار شخص کو ہدیہ کر دے، تو غنی شخص کے لیے ایسا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے اور ایسے ہدیہ کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2449]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2449 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق