صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1699. (144) باب تشبيه الملحف بمن يسف المسألة
چمٹ کر مانگنے والے کو مٹی پھانکنے والے ساتھ تشبیہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، فَهُوَ مُلْحِفٌ وَهُوَ مِثْلُ سَفِّ الْمَسْأَلَةِ" ، يَعْنِي: الرَّمَلَ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس حالت میں مانگا کہ اس کے پاس چالیس درہم موجود ہوں تو وہ چمٹ کر مانگنے والا ہے۔ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ریت کھاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2448]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2448، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2593، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2386، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13334، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2402»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2448 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2448
فوائد:
➊ جس شخص کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) یا اس کے برابر رقم ہو، اس کے لیے سوال کرنا اور بھیک مانگنا مکروہ فعل ہے۔ ایسے شخص کو قناعت سے کام لینا چاہیے اور اپنی گزران اور اخراجات کو دانشمندی سے صرف کرنا چاہیے تاکہ اسے کسی کے سامنے ہاتھ نہ اٹھانا پڑے۔
➊ جس شخص کے پاس ایک اوقیہ (چالیس درہم) یا اس کے برابر رقم ہو، اس کے لیے سوال کرنا اور بھیک مانگنا مکروہ فعل ہے۔ ایسے شخص کو قناعت سے کام لینا چاہیے اور اپنی گزران اور اخراجات کو دانشمندی سے صرف کرنا چاہیے تاکہ اسے کسی کے سامنے ہاتھ نہ اٹھانا پڑے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2448]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2448 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي