صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1710. (155) باب ذكر الدليل على أن احتمال الشهادة بصدقة العقار جائز للشهود إذا علموا العقار المتصدق به من غير تحديد،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کسی زمین کے صدقہ ہونے کی گواہی دینا جائز ہے جبکہ گواہوں کو صدقہ کی گئی زمین کا علم ہو اگرچہ اس کی تعیین و تحدید نہ بھِی ہو۔
حدیث نمبر: Q2460
إِذِ الْعَقَارُ مَشْهُورٌ بِالْمُتَصَدِّقِ مَنْسُوبٌ إِلَيْهِ مُسْتَغْنٍ بِشُهْرَتِهِ وَنِسْبَتِهِ إِلَى الْمُتَصَدِّقِ بِهِ عَنْ ذِكْرِ تَحْدِيدِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى إِبَاحَةِ الْحَاكِمِ احْتِمَالَ الشَّهَادَةِ إِذَا شَهِدَ عَلَيْهَا.
یہ اس وقت ہوگا جب زمین صدقہ کرنے والے شخص کی طرف منسوب ہو اور اسی کی ملکیت مشہور ہو، اس کی طرف نسبت اور شہرت کی بنا پر تحدید کی بھی ضرورت نہیں ہوگی اور اس بات کی دلیل کہ جب ایسی زمین کے متعلق حاکم کو گواہ بنایا جائے تو وہ گواہ بن سکتا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: Q2460]
حدیث نمبر: 2460
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا أَمْوَالَنَا، فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَيْرَحَى لِلَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ" ، قَالَ: فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [ سورة آل عمران: 92 ] ”تم نیکی کو ہر گزنہ پا سکو گے حتّیٰ کہ اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ کرو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میرے خیال میں ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے لہٰذا اے اللہ کے رسول، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے بیرحاء کی اپنی زمین اللہ کے لئے دیدی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ زمین اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین سیدنا حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما میں تقسیم کردی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2460]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 998، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2455، 2458، 2459، 2460، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3340، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3604، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1689، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2997، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1695، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12038، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12327»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود بهز بن أسد العمي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن عثمان الثقفي، أبو صفوان، أبو عبد الله محمد بن عثمان الثقفي ← بهز بن أسد العمي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2460 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2460
فوائد:
➊ صدقہ و خیرات کرتے وقت حاکم یا کسی مذہبی رہنما کو گواہ بنانا جائز ہے۔
➋ امام و حاکم کی نیکی اور صدقہ و خیرات کی گواہی دینا مستحسن فعل ہے۔
➊ صدقہ و خیرات کرتے وقت حاکم یا کسی مذہبی رہنما کو گواہ بنانا جائز ہے۔
➋ امام و حاکم کی نیکی اور صدقہ و خیرات کی گواہی دینا مستحسن فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2460]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2460 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري