صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1721. (166) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِعْلَانِ بِالصَّدَقَةِ نَاوِيًا لِاسْتِنَانِ النَّاسِ بِالْمُتَصَدِّقِ، فَيُكْتَبُ لِمُبْتَدِئِ الصَّدَقَةِ مِثْلُ أَجْرِ الْمُتَصَدِّقِ اسْتِنَانًا بِهِ
اعلانیہ صدقہ اس نیت سے کرنا مستحب ہے کہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہوئے صدقہ کریںگے، صدقے کی ابتداء کرنے والے شخص کواس کی پیروی میں صدقہ کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔
حدیث نمبر: 2477
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ وَهُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَبْطَأَ أُنَاسٌ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ، فَأَعْطَاهَا، فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّرُورُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً، فَإِنَّ لَهُ أَجْرَهَا وَأَجْرَ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا، وَمَثَلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ"
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے صدقہ کرنے کا حُکم دیا تو لوگوں نے اس حُکم کی تعمیل میں تاخیر کردی حتّیٰ کہ آپ کے چہرہ مبارک پر غصّے کے آثار نمودار ہوگئے۔ پھر ایک انصاری صحابہ ایک تھیلی لایا اور وہ صدقہ میں دیدی۔ پھر لوگ پے درپے صدقہ لانے لگے حتّیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے کِھل اُٹھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اسے اپنا بھی اور اس طریقے پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا بھی اجرملے گا جبکہ اُن کے اپنے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائیگی۔ اور جس شخص نے (اسلام میں) برا طریقہ رائج کیا تو اُسے اس کا اور اس طریقے پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا بھی گناہ ہوگا جبکہ دیگر عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 989، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2341، 2477، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3308، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2459، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1589، والترمذي فى (جامعه) برقم: 647، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 203، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7472، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19463»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2477 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2477
فوائد:
➊ لوگوں کو کسی اہم مسئلے کی خاطر جمع کرنا، انہیں وعظ کرنا، مصالح پر ابھارنا اور انہیں قبیح چیزوں سے ڈرانا مستحب ہے۔
➋ اس حدیث میں نیکی کے کاموں میں پہل کرنے اور اچھے اعمال و سنن کو عملی جامہ پہنانے کی ترغیب اور باطل چیزوں کی ایجادات اور قبیح افعال سے بچاؤ کی تحریض ہے۔
➌ نیکی کے کاموں کا آغاز کرنے والا اس نیکی پر عمل کرنے والے و دیگر لوگوں کے ثواب میں برابر کا شریک ہے۔
➊ لوگوں کو کسی اہم مسئلے کی خاطر جمع کرنا، انہیں وعظ کرنا، مصالح پر ابھارنا اور انہیں قبیح چیزوں سے ڈرانا مستحب ہے۔
➋ اس حدیث میں نیکی کے کاموں میں پہل کرنے اور اچھے اعمال و سنن کو عملی جامہ پہنانے کی ترغیب اور باطل چیزوں کی ایجادات اور قبیح افعال سے بچاؤ کی تحریض ہے۔
➌ نیکی کے کاموں کا آغاز کرنے والا اس نیکی پر عمل کرنے والے و دیگر لوگوں کے ثواب میں برابر کا شریک ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2477]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2477 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي هلال العبسي ← جرير بن عبد الله البجلي