صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1724. (169) باب ذكر البيان أن لأهل الصدقة بابا من أبواب الجنة يخصون بدخولها من ذلك الباب
اس بات کا بیان کہ صدقہ کرنے والوں کے لئے جنّت کا ایک خصوصی دروازہ ہے جس سے صرف وہی داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَدَمَةُ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ"، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال سے دو چیزیں (جوڑا) اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کو جنّت کے فرشتے (دروازوں پر) بلائیںگے۔ اور جنّت کے کئی دروازے ہیں لہٰذا جو نمازی ہوگا اسے باب الصلاة سے بلایا جائیگا۔ اور جو صدقہ اور زکوٰۃ ادا کرنے والا ہوگا اسے باب الصدقة سے بلایا جائیگا۔ اور جو جہاد کرتا رہا ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائیگا۔ اور جو روزے دار ہو اسے باب الريان سے بلایا جائیگا۔“ تو سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اللہ کی قسم، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے میں سے بھی بلایا جاۓ تو کوئی حرج نہیں لیکن کیا کوئی ایسا بھی خوش نصیب ہوگا جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ایسے خوش نصیب ہوںگے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی ان میں شامل ہوگے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2480]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1897، 2841، 3216، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1027، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1700، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2480، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 308، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2237، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3674، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18635، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7748»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ جليل |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2480 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2480
فوائد:
➊ اس حدیث میں ایک جنس سے دو چیزیں صدقہ کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ ایسا شخص با نصیب ہو گا اور روزِ قیامت اسے جنت میں داخلے کے لیے نام لے کر پکارا جائے گا، جو بڑی سعادت و خوش بختی ہے۔
➋ صدقہ و خیرات کرنا عظیم عمل ہے اور صدقہ و خیرات کی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے جنت میں اہل صدقہ کے لیے ایک مخصوص دروازہ مختص کیا ہے، جس میں سے کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والے گزریں گے۔
➌ اس حدیث میں ابو بکر صدیق کی عظمت و رفعت کا بیان ہے اور ایسے شخص کے منہ پر اس کی تعریف کرنا جائز ہے جس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا ڈر نہ ہو۔
➊ اس حدیث میں ایک جنس سے دو چیزیں صدقہ کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ ایسا شخص با نصیب ہو گا اور روزِ قیامت اسے جنت میں داخلے کے لیے نام لے کر پکارا جائے گا، جو بڑی سعادت و خوش بختی ہے۔
➋ صدقہ و خیرات کرنا عظیم عمل ہے اور صدقہ و خیرات کی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے جنت میں اہل صدقہ کے لیے ایک مخصوص دروازہ مختص کیا ہے، جس میں سے کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والے گزریں گے۔
➌ اس حدیث میں ابو بکر صدیق کی عظمت و رفعت کا بیان ہے اور ایسے شخص کے منہ پر اس کی تعریف کرنا جائز ہے جس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا ڈر نہ ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2480]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2480 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي