صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1739. (184) باب ذكر كتابة الأجر للميت عن غير وصية بالصدقة عنه من ماله
میت کی وصیت کے بغیر اس کے مال سے اس کی طرف سے صدقہ کیا جائے تو اس کا اجر و ثواب میت کے لئے لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2499
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ جَمِيعًا , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ أَوْصَتْ بِصَدَقَةٍ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَلَمْ تُوصِ وَإِنِّي لأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میری والدہ اچانک فوت ہوگئی ہیں اور مجھے یقین ہے اگر (مرنے سے پہلے) وہ بات چیت کرتیں تو صدقہ کرنے کی وصیت ضرور کرتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں تو کیا انہیں اجر و ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں انہیں ثواب ملے گا۔“ جناب ابوکریب کی روایت میں ہے کہ انہوں نے وصیت نہیں کی، میرا یقین ہے کہ اگر وہ بات کر سکتیں تو ضرور صدقہ کرتیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2499]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1388، 2760، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1004، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2814، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2499، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3353، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3651، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2881، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2717، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7203، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24889، والحميدي فى (مسنده) برقم: 245»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2499 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق