صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1763. (22) باب ذكر خروج المرأة لأداء فرض الحج بغير محرم، وأمر الحاكم زوجها باللحاق بها للحج بها
عورت کا بغیر محرم حج ادا کرنے کے لئے چلے جانا اور امام کا اس کے خاوند کو حُکم دینا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ جا کر حج ادا کرے۔
حدیث نمبر: 2530
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَعْبَدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، يَقُولُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: " فَاذْهَبْ فَحُجَّ بِامْرَأَتِكَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے پھر بقیہ حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1862، 3006، 3061، 5233، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2529، 2530، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2731، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2900، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5496، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1959»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2530 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2530
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ خاوند محارم میں شامل ہے۔
➋ عورت کا جب کوئی اور محرم نہ ہو تو سفر کے لیے خاوند کا ساتھ ہونا لازم ہے۔
➌ امام احمد اور شافعیہ کا مذہب ہے کہ خاوند عورت کو سفرِ حج سے روک سکتا ہے اور اسے حج میں تاخیر کرا سکتا ہے۔ [نيل الأوطار: 310/4]
➍ یہ احادیث دلیل ہیں کہ سفرِ حج کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا شرط ہے، کیونکہ اگر محرم کی شرط نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں شریک صحابی کو اپنی زوجہ کے ساتھ جانے کا حکم نہ دیتے۔
➎ موجودہ دور میں ٹریول ایجنسیوں کا مصنوعی محرم بنانا خلافِ شریعت ہے اور ایسے محرم سے سفر کے لیے محرم کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ لہٰذا قلبی تسکین کے لیے ایسے محارم کا انتخاب شریعت کے اس سفری قانون کی پاسداری نہیں کرتا۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ خاوند محارم میں شامل ہے۔
➋ عورت کا جب کوئی اور محرم نہ ہو تو سفر کے لیے خاوند کا ساتھ ہونا لازم ہے۔
➌ امام احمد اور شافعیہ کا مذہب ہے کہ خاوند عورت کو سفرِ حج سے روک سکتا ہے اور اسے حج میں تاخیر کرا سکتا ہے۔ [نيل الأوطار: 310/4]
➍ یہ احادیث دلیل ہیں کہ سفرِ حج کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا شرط ہے، کیونکہ اگر محرم کی شرط نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں شریک صحابی کو اپنی زوجہ کے ساتھ جانے کا حکم نہ دیتے۔
➎ موجودہ دور میں ٹریول ایجنسیوں کا مصنوعی محرم بنانا خلافِ شریعت ہے اور ایسے محرم سے سفر کے لیے محرم کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ لہٰذا قلبی تسکین کے لیے ایسے محارم کا انتخاب شریعت کے اس سفری قانون کی پاسداری نہیں کرتا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2530]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2530 in Urdu
نافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي